تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 584 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 584

گو یا ہادیہ میں پڑنے کے دو نتیجے ہیں۔اوئی نتیجہ مسلسل گھبراہٹ اور سراسیمگی اعلیٰ نتیجہ موت۔اگر وہ کامل رجوع کرتا ، تو ہر دو قسم کے ہادیہ سے محفوظ رہتا۔لیکن چونکہ اُس نے صرف ناقص رجوع کیا۔اس لئے وہ ہادیہ کے انتہائی نتیجہ سے تو بچ رہا لیکن ادنی نتیجہ سے محفوظ نہ رہ سکا۔الغرض جب ہاویہ دو سزاؤں مشتمل ہے اور جو سزا رجوع کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی اس کی تشریح موت کے لفظ سے کر دی گئی تھی۔تو اب اس اعتراض کے معنے ہی کیا ہوئے۔اور پھر اس کو زبردست اعتراض کہنا تو اور بھی غلطی ہے۔الجواب الثالث: فرض کر لو کہ ہاویہ سے مراد جنگ مقدس میں بھی محض ہم و نظم اور گھبراہٹ ہے جس میں آتھم پڑا رہا۔اس کا دوسرا کوئی اثر مقدر نہ تھا، پھر بھی یہ اعتراض غلط ہے کیونکہ اندر میں صُورت لفظ رجوع سے مراد کامل رجوع ہوگا یعنی آتھم علی الاعلان رجوع کرتا ، اور اسلام کو قبول کرتا، تو اس صورت میں وہ اس ہاویہ سے بچایا جاتا۔ہادیہ سے مُراد صرف غم وہم ہے۔مگر رجوع سے مراد محسوس رجوع ہے۔اب چونکہ آتھم نے کامل رجوع نہ کیا۔اس لئے اس ہاویہ میں گرا۔بہر حال کوئی تناقض نہیں۔الجواب الرابع : رجوع الی الحق ایک ایسا لفظ ہے جس کے متعدد اور متفاوت المراتب مدارج ہیں۔الحق سے مراد اسلام ہے اور رجوع الی الحق کے معنی بقول منشی محمد یعقوب صاحب عیسائیت پر قائم نہ رہنا ہیں۔اب عیسائیت پر قائم نہ رہنے یا اسلام کی طرف توجہ کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔(۱) قلبی۔جیسا کہ يَكْتُمُ ايْمَانَهُ المؤمن رکوع ۴) سے مستنبط ہے۔(۲) ظاہر کی۔جیسا کہ بعض منافق اسلام کا اظہار کرتے ہیں مگر اندر سے عیسائی وغیرہ ہی ہوتے ہیں۔آیت قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ (المنافقون ) اس پر گواہ ہے۔(۳) حقیقی۔جیسا کہ سچ سچ کے مؤمن ہوا کرتے ہیں۔اُن کا دل اور زبان ، قلب اور جوارح یکساں شہادتِ ایمانی دیتے ہیں۔آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اسی پر دال ہے۔آتھم نے ان اقسام میں سے صرف اوّل الذکر صورت والا رجوع کیا تھا۔چونکہ اس کا (584)