تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 581 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 581

دوسرے یا وہ گو پادری ہنری مارٹن وغیرہ نے اشتہارات میں ژاثر خائی کی۔ہاں پادریوں کے خیراتی وکیل دشمنان اسلام مولوی صاحبان نے اُن کا حق نمک خوب ادا کیا اور کہا کہ اس سے مطالبہ حلف درست نہیں۔معترض پٹیالوی بھی لکھتا ہے کہ آتھم نے کہا تھا کہ میں عدالت میں حلف کر سکتا ہوں۔بشرطیکہ مرزا صاحب مجھ پر دعویٰ کریں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵۴) کتنا بڑا دھوکہ ہے۔حملے آتھم پر ہوں ، سانپ اُس پر چھوڑے جائیں اور دعویٰ حضرت مرزا صاحب کریں۔کیا دجالیت کسی اور چیز کا نام ہے؟ مولوی ثناء اللہ نے اس کا غیر مسلم ہونا بتا کر ہی اس کو قسم سے بری کر دیا۔کیا عجیب انداز میں لکھتے ہیں :- مرزا جی کو آتھم پر قسم دینے کا حق ہی کیا تھا۔کوئی آیت یا حدیث اس بارے میں ہے کہ کوئی کافر اگر اپنے نفس پر التزام کفر کرے اور اسلام سے انکاری ہو تو اس کو قسم دینی چاہئے۔“ (رسالہ الہامات مرزا صفحہ ۱۶) گویا آیت و حدیث آتھم پر حجت تھی؟ صاف بات تھی کہ آتھم ایک گواہی کے اخفاء کا مرتکب ہو رہا تھا اُس کو اس کے متعلق حلف دی گئی تھی۔اور حلف شرعا اسی غرض سے جاری ہے تا کاذب کو مؤاخذہ خداوندی میں لا یا جاوے۔خیران مولویوں نے اپنا حق ادا کر دیا۔مولوی ثناء اللہ نے لکھا ہے :- ”ہمارے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ مرزا جی کی ایک سالہ پیشگوئی پیخ سے جو قسم کھانے پر اس کے پیچھے لعنت کے طوق کی طرح ڈال کر لوگوں کی توجہ کامل ایک سال تک پھیر نی چاہتے تھے۔وہ اس سے بچتا تھا۔وہ بھی آخر ڈ پٹی رہ چکا تھا۔اگر مرزا جی صرف قسم کی بابت اُسے کہتے تو شاید انجیل متی باب ۵ کی کوئی تاویل سوچ کر وہ قسم کھا جاتا۔(رسالہ الہامات صفحہ ۳۷) دیکھو رسالہ الہامات صفحہ ۱۶۔یہیں وہ اشتہار ہے جس کو معترض پٹیالوی نے آتھم سے منسوب کر کے عیسائیت میں جواز قسم کو جواز خنزیر کی مثال بتایا ہے۔(ابوالعطاء) (581)