تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 577 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 577

رسالوں میں لکھا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵۲) پھر لکھتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک اشتہار دے دیا کہ مسٹر آتھم اگر قسم کھاویں کہ انہوں نے رجوع الی الحق نہیں کیا تو دو ہزار پھر لکھا کہ چار ہزار روپیہ انعام لے لیں۔(عشرہ صفحہ ۱۵۳) گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دعویٰ ہے کہ آتھم نے رجوع الی الحق کیا ہے۔اگر یہ بات غلط ہے اور فی الواقع وہ عیسائیت پر پورے دل سے قائم رہا ہے تو وہ اس کے متعلق حلفیہ شہادت دے اور انعام لے۔اگر بعد ازاں جلد آسمانی عذاب سے تباہ نہ ہو تو مجھے کذاب سمجھو۔مگر آتھم اس قدر سراسیمہ ہو چکا تھا کہ اُس نے اِس طرف کا رُخ بھی نہ کیا اور صاف انکار کر دیا۔ہاں اُس نے جو اقرار کیا ، وہ یہ تھا کہ مرزا صاحب نے نیزوں اور تلواروں سے مسلح آدمی میرے قتل کے لئے بھیجے ، سر ہائے ہوئے سانپ شہر بہ شہر میرے پیچھے بھاگتے پھرے۔چنانچہ وہ امرتسر کو چھوڑ لدھیانہ ، اور پھر وہاں سے فیروز پور چلا گیا۔تاکہ کسی طرح اُسے اس عذاب سے نجات ملے۔مگر کہاں؟ وہاں بھی اس کو وہی نظارے نظر آتے تھے اور ایک غیر معمولی ہیت اُس کے قلب پر طاری ہو گئی۔اور اُس نے رجوع الی الحق کر لیا۔تب وہ اس عرصہ میں ہلاکت سے بیچ رہا۔لیکن بعد مدت وہ اس رجوع پر قائم نہ رہا۔بلکہ جیسا کہ معترض پٹیالوی نے لکھا ہے کہ :- تھم رجوع سے بالکل انکاری تھا۔(عشرہ صفحہ ۱۵۴) آتھم نے انکار کیا، اور اپنے خوفزدہ ہونے کی وجہ ان حملوں کو قرار دیا۔اس کے جواب میں رجوع الی الحق کی قلبی کیفیت کے ثابت کرنے کے لئے حضرت اقدس نے دو طور سے اس پر اتمام حجت کی۔اول اس طرح کہ آپ نے اُسے کہا کہ تم (آتھم ) اس تخویف اور ان حملوں کے بارہ میں مجھ پر نالش کرو۔دوم تم قسم کھاؤ کہ تم نے رجوع الی الحق نہیں کیا۔جب وہ ان دونوں طریق سے فیصلہ کے لئے تیار نہ ہوا اور نہ ہی اُس نے اپنے رجوع الی الحق کا کھلا کھلا اعتراف کیا تو حضرت نے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر شائع فرمایا۔(الف) ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب اُس وقت تک تھما ر ہے جب تک کہ وہ ( آتھم ) بیا کی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت (577)