تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 576 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 576

آتھم، کے پرچہ جات مباحثہ بالمقابل درج کئے گے ہیں۔در حقیقت معترض نے کسی سے ٹن کر یہ لکھ دیا ہے۔اسے نقل را عقل بائیڈ“ کا مقولہ یا درکھنا چاہئے۔پھر معترض نے پیشگوئی کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے :۔اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمد انجھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور کچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ۱۵ ماہ تک ہادیہ میں گرا یا جاوے گا۔اور اُس کو سخت ذلت پہنچے گی۔بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ (عشره صفحه ۱۵۱) پھر ہادیہ کی تشریح کے لئے حضرت اقدس کے حسب ذیل الفاظ پیش کئے ہیں :- ” وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔وہ پندرہ ماہ کے اندر آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہادیہ میں نہ پڑے، تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کیلئے تیار ہوں۔“ (عشره صفحه ۱۵۱) آخر پر اپنے الفاظ میں خلاصہ یوں درج کیا ہے :- مطلب صاف ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق نہ کرے گا تو بسزائے موت پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔یعنی مر جائے گا۔اور اگر رجوع الی الحق کرلے گا۔یعنی عیسائیت پر قائم نہ رہے گا اور اس کے افعال و اقوال سے رجوع الی الحق ثابت ہوگا تو اس سزا سے بچ رہے گا۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵۲) گو یا معترض بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ پیشگوئی شرطی تھی اور رجوع الی الحق کی صورت میں اس کی موت کا ملتوی ہو جانا خود پیشگوئی کا حصہ تھا۔اب معترض پٹیالوی کا ایک اور اقرار بھی پڑھ لیجئے لکھتا ہے کہ:۔” جب آتھم میعاد کے اندر فوت نہ ہوا۔تو مرزا صاحب نے جھٹ اشتہار دے دیا کہ اُس نے دل میں رجوع الی الحق کر لیا تھا اسلئے موت سے بچ گیا۔اس مضمون کو انہوں نے بیسیوں کتابوں اور 576