تفہیماتِ ربانیّہ — Page 575
مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے لَتَدْخُلُ الْمَسْجِد الْحَرَامہ والی رؤیا کوحدیبیہ والے سال کے لئے اندازہ فرمایا۔اور قریب ڈیڑھ ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر حضور حج کی نیت سے چل کھڑے ہوئے۔لیکن علم الہی میں اس کے پورا ہونے کا وقت آئندہ سال تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی موجود الوقت نسل کو لیکر فتح کنعان کیلئے روانہ ہوتے ہیں اور بار بار اُن کو اُدْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ بناتے ہیں یعنی یہ زمین اللہ تعالیٰ نے تمہارے واسطے لکھ دی ہے، تم اس میں داخل ہو جاؤ۔(المائدہ رکوع ۴ مگر واقعات نے بتایا کہ گنعان کی فتح کا وعدہ دوسری نسل کیلئے تھا۔چنانچہ وہ نسل اسی جنگل میں بھٹک کر مرگئی۔اور دوسری نسل نے اس ملک کو فتح کیا اور اُن کے ذریعہ سے وعدہ پورا ہوا۔دسواں معیار۔بعض دفعہ پیشگوئی کو کلیہ بھی منسوخ کر دیا جاتا ہے جیسا کہ آیت مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنَسِهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا (البقرہ رکوع ۱۳) کا ایک مفاد یہ بھی ہے۔اور آیت وَإِذَا بَتْلْنَا ايَةٌ مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِلُ قَالُوا إِثْمَا انت مفترٍ (اخل رکوع (۱۴) نیز وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (یوسف رکوع ۳) بھی اس مفہوم کی مؤید ہیں۔پیشگوئیوں کے متعلق معیار اور اصول تو بہت ہیں۔لیکن اس جگہ اختصار کی خاطر اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔اور اب معترض پٹیالوی کی پیش کردہ پیشگوئیوں پر اس کے اعتراضات کے جواب لکھتا ہوں۔وبالله التوفيق۔لا آتھم والی پیش گوئی پہلے نمبر پر معترض بیٹیالوی نے آتھم والی پیشگوئی کا ذکر کیا ہے۔لکھتا ہے :- مسٹر عبد اللہ انتظم عیسائی سے جون ۱۸۹۳ء میں مباحثہ ہونے کے بعد آپ نے ایک کتاب بنام جنگ مقدس لکھی تھی۔“ (عشره صفحه ۱۵۱) ناظرین ! جس شخص کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ جنگ مقدس کیا چیز ہے کیا وہ بھی حق رکھتا ہے کہ اس کے حوالہ سے کوئی اعتراض کرے؟ جنگ مقدس حضرت نے مباحثہ کے بعد نہیں لکھی بلکہ جنگ مقدس وہ رسالہ ہے جس میں فریقین ، حضرت اقدس اور پادری (575)