تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 565 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 565

وَانِّي إِذا أَوَعَدتُه أَو وَعَدتُه لَمُخْلِفُ اِيُعَادِي وَمُنْجِزُ مَوْعِدِى ( تفسیر روح المعانی جلد ۲ صفحه ۱۵۵ مطبوعہ مصر ) ترجمہ : اس بحث میں مسلم اصل وہی ہے جو علامہ واحدی نے ذکر کیا ہے یعنے اللہ تعالٰی وعید کا خلاف کر لیتا ہے اگر چہ وعدہ کا خلاف نہیں کرتا۔سنت سے بھی یہی ثابت ہے۔حضرت ان کی روایت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو ثواب کا وعدہ دے تو وہ اُس کو ضرور پورا کرتا ہے۔ہاں اگر کسی کو اس کے عمل پر سزا کا وعید کرے تو اُسے اختیار ہے۔آئمہ صادقین ان لفظوں میں دُعا کیا کرتے تھے کہ اے وہ ذات جب وعدہ کرے تو ایفا کرے اور جب وعید کرے تو در گذر فرمائے۔پھر عرب بھی خلاف وعید پر فخر کیا کرتے ہیں۔وہ اس کو نقص نہیں سمجھتے۔شاعر کہتا ہے میں جب اس سے وعید اور وعدہ کرتا ہوں تو وہ وعدہ پورا کر دیتا ہوں لیکن وعید پورانہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف کرتا ہوں۔“ پس دوسرا معیار یہ ہے کہ حالات کے ماتحت نفس وعید کے ٹل جانے کا امکان ہے۔تیسرا معیار : - چونکہ اللہ تعالیٰ کا اصل مقصود انذاری پیش گوئیوں اور عذابوں سے توجہ الی اللہ پیدا کرنا ہے۔اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ وہ سب کی سب شرط تو بہ کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں۔خواہ وہ شرط الفاظ پیشگوئی میں صراحت مذکور ہو یانہ مذکور ہو۔بہر حال مراد ہوگی۔چنانچہ امام نخر الدین رازی لکھتے ہیں :- اِنَّ الْوَعْدَ حَقٌّ عَلَيْهِ وَالْوَعِيْدُ حَقٌّ لَهُ وَمَنْ أَسْقَطَ حَقٌّ نَفْسِهِ فَقَدْ أَتَى بِالْجُودِ وَالْكَرَمِ وَمَنْ اسْقَطَ حَقٌّ غَيْرِهِ فَذَالِكَ هُوَ الْمُؤْمُ فَظَهَرَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْوَعْدِ وَالْوَعِيدِ وَبَطَلَ قَيَاسُكَ وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هذا الشَّعْرَ لا يُضَاح هذَا الْفَرْقِ فَأَمَّا قَوْلُكَ لَوْ لَمْ يَفْعَلُ لَصَارَ كَاذِبًا وَمُكَذِّبًا نَفْسَهُ فَجَوَابُهُ أَنَّ هَذَا إِنَّمَا يَلْزَمُ لَوْ كَانَ الْوَعِيْدُ ثَابِتًا جَزْمًا مِنْ غَيْرِ شَرْطٍ وَعِنْدِى جَمِيعُ الْوَعِيدَاتِ مَشْرُوطَةٌ بِعَدَمِ الْعَفُو فَلَا يَلْزَهُ مِنْ تَرَكِهِ دَخُولُ الْكَذِبِ فِي كَلَامِ اللهِ تَعَالَى “ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه ۶۰۹ مطبوعه مصر ) 565