تفہیماتِ ربانیّہ — Page 534
پہنچانے کا ارادہ ہے۔اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔“ ( براہین حصہ چہارم ٹائیٹل آخری ) گویا اب حالات بدل گئے اور مشیت ایزدی نے حضرت کے ارادہ کو دوسری طرف پھیر دیا۔اسی موقع کے لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ مقولہ ہے۔عَرَفْتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَذَائِم کہ پختہ ارادوں کے شیخ ہو جانے سے ہی میں نے اپنے رب کو شناخت کیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج پر تشریف لے جاتے ہیں اور اپنے ہمراہ قربانیاں بھی لے جاتے ہیں۔عمرہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں :- لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدُ بَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ۔“ کہ اگر مجھے اس معاملہ کی پہلے خبر ہوتی تو میں قربانی نہ لاتا۔“ گویا حالات کے بدلنے سے پروگرام بدل جایا کرتے ہیں۔(مشکوۃ کتاب الحج) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات بدل گئے اسلئے براہین احمدیہ بھی اس صورت میں مکمل نہ ہوسکی جس طرح حضور پہلے ارادہ رکھتے تھے۔آیت إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أحببت شاہد ہے کہ انبیاء کرام کے بہت سے ارادے ظاہری طور پر پورے نہیں ہو ا کرتے۔اس کا نام خلاف وعدہ رکھنا غلطی ہے۔تین سو دلائل کے متعلق حضور نے تحریر فرمایا ہے کہ : میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیت اسلام کے لئے تین سو دلائل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل (اعلیٰ تعلیمات اور زندہ معجزات - ناقل) ہزار ہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔“ (دیباچه براهین پنجم صفحه ۵) (534)