تفہیماتِ ربانیّہ — Page 446
فقره اول " توحید و ذات باری اور مشرکانہ اقوال ،، (۱) قوله ” قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ كَفَر الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ ثَالِثُ ثَلقَةِ - وہ لوگ ضرور کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے۔اس آیت میں عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کی بیگنی مقصود تھی لیکن مرزا صاحب پاک تو حید کے ساتھ پاک تثلیث کے بھی قائل تھے۔چنانچہ لکھتے ہیں کہ ان دونوں محبتوں کے کمال سے جو خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر نرومادہ کا حکم رکھتی ہے اور محبت الہی کی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔اس کا نام پاک تثلیث ہے اسلئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لے بطور ابن اللہ کے ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۰۰ توضیح المرام صفحه ۴۸) اقول معترض پٹیالوی نے اس اعتراض میں بے ذوقی کے علاوہ سخت خیانت سے کام لیا ہے۔جلی فقرات کو علامت “ میں رکھ کر اس نے یہ بتلانا چاہا ہے کہ یہ عبارت بعینہ حضرت مرزا صاحب کی ہے حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل عبارت حسب ذیل ہے فرمایا :- اُوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اؤل بندہ کے دل میں بارادہ الہی پیدا ہوکر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو در حقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہے ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الہی محبت کے چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اسوقت سے سمجھی جاتی ہے جبکہ خدا تعالیٰ اپنے ارادہ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ (446)