تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 436 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 436

نیز قضاء مبرم ہونے کی وجہ سے محروم رہا۔حدیث شریف میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَالَمْ يَعْجَلُ يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لي رواه البيهقى وابوداود والترمذي وابن ماجة ) كه جب انسان جلد بازی کرے گا تو اُس کی دعا قبول نہ ہوگی یعنی جب وہ یہ کہنے لگ پڑے کہ میں نے (یا فلاں نے میرے لئے ) دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی تو پھر اللہ تعالیٰ اس دُعا کو نہیں سنتا۔اس جگہ بھی سید امیر شاہ صاحب اپنی جلد بازی کے باعث محروم رہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دولتمند مسلمانوں کو اسلام کے لئے تحریک چندہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے :- یں تمام امراء کی خدمت میں بطور عام اعلان کے لکھتا ہوں کہ اگر ان کو بغیر آزمائش ایسی مدد میں تامل ہو تو وہ اپنے مقاصد اور مہمات اور مشکلات کو اس غرض سے میری طرف لکھ بھیجیں کہ تائیں ان مقاصد کے پورے ہونے کے لئے دعا کروں۔اور اس بات کو تصریح سے لکھ بھیجیں کہ وہ مطلب پورا ہونے کے وقت کہاں تک ہمیں اسلام کی راہ میں مالی مدد دیں گے۔اور کیا انہوں نے اپنے دلوں میں پختہ اور حتمی وعدہ کر لیا ہے کہ ضرور وہ اس قدر مدد دیں گے۔اگر ایسا خط کسی صاحب کی طرف سے مجھ کو پہنچا تو میں اس کے لئے دعا کروں گا۔اور میں یقین کرتا ہوں کہ بشرطیکہ تقدیر مبرم نہ ہوضرور خدا تعالیٰ میری دُعائنے گا اور مجھے کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے گا۔(ضرورۃ الامام صفحہ ۳۰) گویا ایسے لوگوں کے لئے دعا کے مقبول ہونے کا اُسی وقت تک وعدہ ہے جب تک کہ وہ مصیبت تقدیر مبرم نہ ہو۔پس سید امیر شاہ والا معاملہ ہرگز قابل اعتراض نہیں۔سید امیر شاہ مذکور کی شتاب کاری پر حضرت نے اس کا روپیہ واپس کرنے کیلئے لکھا مگر اُس نے واپس لینے سے بھی انکار کر دیا۔چنانچہ لکھا ہے :- " جس وقت ایسی شتابکاری آپ لوگوں کی محسوس کی گئی تو بڑی جد کے ساتھ حضرت اقدس نے ان مبالغ کے واپس کرنے کے لئے سید امیر شاہ صاحب کو تحریر کیا تھا لیکن اس نے واپس نہ لئے۔“ ( آیات الرحمن بجواب عصائے موسیٰ صفحہ ۴۹) 436