تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 426 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 426

ایک کا ہن تھا۔دعوی نبوت کجا اور کہانت کجا بع شيئان مفترقان آی تفرق ! اسی لئے مصنف نبراس شرح عقائد نسفی لکھتے ہیں :- "إِنَّمَا يَمْتَنِعُ الْخَارِقُ عَنِ الْمُتَنَنِي إِذَا أَوْ جَبَ التَّخْلِيْطَ وَلَا تَخْلِيْطَ هُنَا لاعترافِهِ بِأَنَّهُ كَاهِنْ يَأْتِيهِ مِنَ الْجِنِّ مُخْبِرُ صَادِقٌ وَ كَاذِبٌ۔“ ( صفحه ۴۳۲) کہ خارق کا ظہور دعوی نبوت کا ذبہ کے مرتکب سے ممتنع ہے جبکہ وہاں شبہ پڑ جانے کا موقع ہو۔لیکن اس جگہ ( ابن صیاد کے بارہ میں ) کوئی اشتباہ نہیں پڑسکتا۔کیونکہ اس نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ میں کا بہن ہوں اور میرے پاس چن آتا ہے جو سچا بھی ہوتا ہے اور جھوٹا بھی۔“ (۲) صاحبزادہ مرز امبارک احمد مرحوم کے لئے دُعا معترض پٹیالوی لکھتا ہے کہ :۔وو مرزا صاحب کا لڑکا مبارک احمد سخت بیمار ہوا۔اُس کی نسبت الہام ہوا۔قبول ہوگئی۔نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔یعنی یہ دعا قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے میاں موصوف کو شفا دی (میگزین ستمبر ۱۹۰۷ء الهام ۲۳ را گست ۱۹۰۷ء مندرجه البشر ی صفحه ۱۳۳ جلد دوم ) اس جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ صاحبزادہ مبارک احمد حسب وعدہ الہی دسویں یوم راضی اور تندرست ہو گیا ( بدر نمبر ۳۵ صفحه (۴) لیکن میگزین اکتوبر ۱۹۰۷ء سے ظاہر ہے کہ میاں مبارک احمد کا ۱۶ ستمبر ۱۹۰۷ ء کو انتقال ہو گیا اور قبولیت دعا کا الہام صریح غلط ثابت ہوا۔کیا یہ وعدہ رحمانی تھا یا القائے شیطانی؟‘ (عشرہ صفحہ ۹۳) ناظرین کرام! ہم نے معترض کے اعتراض کو ہو بہو نقل کر دیا ہے۔اس نے حاشیہ پر درثمین کا بھی حوالہ دیا ہے اسلئے ضروری ہے کہ در خمین میں سے وہ حوالہ بھی مکمل نقل کر دیا جائے۔ذیل میں صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے لوح مزار کے اشعار اور عبارت جو مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمائی در ثمین سے درج کی جاتی ہے حضور فرماتے ہیں ے ا نیز دیکھو در شمین حاشیه صفحه ۶۳ 426