تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 415 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 415

ناظرین کرام ! ان بیانات کا نتیجہ نہایت واضح ہے۔قرآن مجید کی آیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے الفاظ ہیں اور نہایت غیر مبہم الفاظ ہیں۔ان میں کوئی معاند یہ بھی نہیں کہ سکتا کہ دیکھو انبیاء کی ہتک کرتے ہیں۔کیونکہ ہم تو قرآن مجید اور حدیث نبوی کے متبع ہیں۔بلاشبہ نبی کا مقام بارگاہ ایزدی میں بہت ہی بلند ہے مگر ہم آیات قرآنیہ اور ارشادات نبویہ کو کس طرح چھپا سکتے ہیں۔ان کی رُو سے بہر حال یہ ماننا پڑے گا کہ نبی کی ہر دُعا کا منظور ہونا ضروری نہیں۔اور اگر کسی نبی کی بلا مقابلہ دعا کو اللہ تعالیٰ کسی مصلحت خاص کے ماتحت مسترد فرمائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔حضرت امام غزالی نے ایک کتاب الاقتصاد فی الاعتقاد تصنیف فرمائی ہے۔اس کا اُردو ترجمہ علم الکلام کے نام سے طبع ہو چکا ہے۔آپ اس میں فرماتے ہیں :- و کئی دفعہ یہ بات ہوئی ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور ان کے قبول ہونے کا بھی یقین تھا مگر خدا تعالیٰ نے کسی مصلحت کی وجہ سے ان کو قبول نہ کیا۔علم الکلام صفحہ ہے) اے تفسیر سراج المنیر میں لکھا ہے :۔" إِنَّ إِجَابَةَ دُعَاءِ الْأَنْبِيَاءِ غَالِبَةٌ لَا لَازِمَةٌ فَقَدْ يَتَخَلَّفُ لِقَضَاءِ اللهِ تَعَالَى بِخِلَافِهِ كَمَا فِي دُعَاءِ إِبْرَاهِيمَ فِي حَقِّ أَبِيهِ وَكَمَا فِي دُعَاءِ نَبِيَّنَا محمّد صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ سَأَلْتُهُ آن لا يُذِيقَ بعضهُم بَأسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيُّهَا۔“ (سراج المنير جلد ۲ صفحه ۴۱۲) ترجمہ نبیوں کی دعا کی قبولیت اکثر اور غالب ہوتی ہے لازمی نہیں۔کیونکہ بعض دفعہ قضاء الہی اس کے برخلاف ہوتی ہے اور وہ دعا مختلف ہو جاتی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم کی دعا جو اُن کے باپ کے حق میں تھی یا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں ہوا۔چنانچہ آپ کا قول ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مسلمان بعض بعض کے جنگ کو نہ چکھیں یعنی ان میں خانہ جنگی نہ ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو منظور نہ فرمایا۔“ طوالت کلام کے خوف سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔(415)