تفہیماتِ ربانیّہ — Page 35
نہیں کیا بلکہ وہ سب اسلام کا ہی اظہار کرتے رہے اور یہ ایسے مدعیوں کی عام حالت ہے جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے لکھا ہے :۔"وَكَذَالِكَ الْمُنْتَظِرُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فَإِنَّ عَدَداً كَثِيراً مِنَ النَّاسِ يَدَّعِى كُلُّ وَاحِدٌ مِنْهُمْ أَنَّهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ مِنْهُمْ مَنْ يُظْهِرُ ذَالِكَ لِطَائِفَةٍ مِنَ النَّاسِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّكْتُمُ ذَالِكَ وَلَا يُظْهِرُهُ إِلَّا لِلْوَاحِدِ وَالْإِثْنَيْنِ۔“ ( منهاج السنت جلد ۲ صفحہ ۱۳۲) کہ چونکہ محمد بن الحسن کے مہدی ہونے کا خیال عوام میں پایا جاتا ہے اسلئے بہت سے لوگ اس امر کے مدعی ہوئے ہیں۔جن میں سے بعض نے اس دعوے کو ایک جماعت کے سامنے پیش کیا اور بعض نے اس دعوے کو بالکل نچھپایا اور سوائے ایک دو آدمیوں کے کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کیا۔پس صالح بن طریف کو بطور نظیر پیش کرنا غلطی ہے اور منشی صاحب نے یہ لکھ کر کہ مدعی مذکور ۷ ۴ سال تک نہایت استقلال اور کامیابی سے اپنے مذہب کی اشاعت کرتارہا ایک صریح غلط بیانی کا ارتکاب کیا ہے۔کیا وہ اس کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔هَاتُوا بُرُهَا نَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ - مصنف مذکورلکھتا ہے :۔عبید اللہ مہدی ۲۹۷ ھ میں مہدویت کا مدعی ہوا۔اگلے سال افریقہ میں جا کر وہاں کا فرمانروا ہو گیا اور مہدویت کا زور شور سے اعلان کیا۔۶۳ سال کی عمر پائی۔“ (صفحہ ۳۳) جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں جب تک کوئی مدعی وحی والہام نہ ہو وہ ولو تقول علینا بعض الاقاویل کے ماتحت نہیں آسکتا۔صرف مہدویت یا خلافت کے مدعی ہو جانے سے ہمیں کیا تعلق۔ہاں اگر کوئی ایسا ندگی ہے جس نے خدا سے الہام پانے کی بناء پر تکلم کھلا دعویٰ کیا تو البتہ کچھ بات ہے۔مگر ایسا ہونا محال ہے۔عبید اللہ مذکور کے متعلق لکھا ہے :- وَإِنَّمَا تَسَمَّى الْمَهْدِي عُبَيْدُ اللهِ اِسْتِتَاراً هَذَا عِنْدَ مَنْ يُصَحِحُ نَسَبَه “ وفیات الاعیان جلد ۱ صفحه ۲۷۲) 35