تفہیماتِ ربانیّہ — Page 34
يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَآنَ عِيسَى يَكُونُ صَاحِبُهُ وَيُصَلِّي خَلْفَهُ “ (صفحہ ۲۰۷) کہ اس نے یہ دعوی محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند کو دیکھ کر عناداً کیا تھا اور پھر اس نے خیال کیا کہ میں مہدی اکبر ہوں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔عیسیٰ اس کے ساتھ ہوگا اور اس کے پیچھے نماز پڑھے گا۔کا ابن خلدون کے اس بیان پر کہ صالح نے دعوی کیا ت کیا دو یا تیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔اول یہ بیان ابن خلدون نے محض ایک شخص کی روایت سے نقل کیا ہے اور دنیا کا کوئی عقلمند ایسے اہم معاملہ کے لئے خبر واحد کو مستند نہیں مان سکتا۔بالخصوص جبکہ اس راوی کا بیان بھی کئی سو سال کے بعد ضبط تحریر میں لایا گیا ہو۔دوم ابن خلدون نے مدعی مذکور کے الہام یا اس کا دعوی اس کے الفاظ میں نقل نہیں کیا بلکہ محض لوگوں کی روایت ایک شخص کے ذریعہ سے درج کی ہے اور خود بھی اس کی صحت کا دعویٰ نہیں کیا۔اگر ہم ابن خلدون کی روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیں اور صالح کو مدعی نبوت بھی مان لیں تب بھی اس سے ہمارے استدلال پر کوئی حرف نہیں آتا۔کیونکہ صالح مذکور نے اپنے دعوئی کو علی الاعلان پیش نہیں کیا۔بلکہ اس کو مخفی رکھتا رہا۔چنانچہ ابن خلدون لکھتے ہیں :- وَأَوْصَى صَالِحُ بنُ طَرِيفِ بِدِينِهِ إِلَى ابْنِهِ إِلْيَاسَ وَعَهِدَ إِلَيْهِ بمُوالاةِ صَاحِبِ الْأَنْدُلُسِ مِنْ بَنِى أُمَيَّةَ وَبِاظْهَارِ دِينِهِ إِذَا قَوِيَ أَمْرُهُمْ وَقَامَ بِآمُرِهِ بَعْدَهُ ابْنُهُ إِلْيَاسُ وَلَمْ يَزَلْ مُظْهِراً لِلْإِسْلَامِ مُسِرٌ أَلِمَا أَوْصَادُ بِهِ آبُوهُ مِنْ كَلِمَةِ كُفْرِهِمْ۔“ ابن خلدون جلد ۶ صفحه ۲۰۷) صالح بن طریف نے اپنے دین کی اپنے بیٹے کو وصیت کی اور کہا کہ اندلس کے حاکم سے دوستی رکھنا اور جب تمہاری حکومت مضبوط ہو جائے تو اس دین کو ظاہر کرنا۔چنانچہ اس کے بعد اس کا بیٹا الیاس والی ہوا۔اور وہ ہمیشہ اسلام کو ظاہر کرتا رہا اور اپنے باپ کے وصیت کردہ مذہب کو چھپاتا رہا۔“ گویا صالح بن طریف نے اس دعویٰ کو عام پبلک میں بیان نہیں کیا بلکہ ہمیش اخفاء سے کام لیتا رہا اور اسی اخفاء کی حالت میں مر گیا اور پھر اس کے بیٹے نے بھی اس کا اظہار 34