تفہیماتِ ربانیّہ — Page 392
صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری کر دیا تھا۔پھر جبرائیل نے اس کا ازالہ کیا۔(صفحہ ۲۸۲) دوسرے انبیاء کرام پر اگر کوئی ایسا القاء ہو تو فوراً اس کا ازالہ کر دیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس واقعہ کا ذکر ایک خاص سلسلہ میں ارقام فرمایا ہے۔حضور تحریر فرماتے ہیں :۔ہم اس جگہ ان صاحبوں ( عبد الحق غزنوی و محی الدین صاحب لکھو والے ) کے الہامات کی نسبت کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔صرف اس قدر تحریر کرنا کافی ہے کہ الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دیگر کسی بات کے استکشاف کے لئے بطور استخارہ یا استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے۔خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے۔تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے۔اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔یہ دخل بھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے مگر بلا توقف نکالا جاتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَتَى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أُمنيته اللہ ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آ جاتا ہے۔دیکھو خط دوم قرنتیان باب ۱۱ آیت ۱۴۔اور مجموعہ تورات سے سلاطین اول باب بائیں آیت انیس میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چارسو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے۔الہ (ازالہ اوہام سحر ۲۷ طبع دوم ) الخ۔اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اہل بائیبل پر حجت کے لئے بائیبل کا حوالہ ذکر فرمایا ہے۔بیشک آیت الا اذا تمتلی کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔اور عام طور پر لے ہم اس کے قائل نہیں۔بلکہ اسے منافق طبع لوگوں کی شرارت مانتے ہیں۔سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وہ شان ہے کہ ان کا شیطان بھی مسلمان ہو گیا تھا۔فلا يأمره إلا بخير (مصنف) (392)