تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 371 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 371

دونوں پیشگوئیوں کے منکرین میں تھا۔دیکھئے قرآن مجید میں اصحاب القریہ کے پاس رسولوں کے جانے کا قصہ مذکور ہے۔جتنا جتنا منکرین اپنے انکار میں شدت اختیار کرتے گئے اتنا ہی یہ رسول اپنے دعوئی کو مؤکد اور موثق بناتے گئے۔حتی کہ آخر کار بطور حلف کہارَ بنَا يَعْلَمُ إِنَّا إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ (ئیس رکوع ۲) کیا اب اگر کسی رسول نے اپنے دعوی کو اس شدت سے یا اس رنگ میں ذکر نہیں کیا تو کیا وہ جھوٹا تھا یا اس کو اپنے دعویٰ میں شک تھا؟ ہر گز نہیں۔پس ھے سخن شناس نه صاحباخطا اینجا است ناظرین! ان تمام بودے اور کمزور فرقوں کو ذکر کرنے سے معترض پٹیالوی کا مطلب کیا ہے؟ وہ اس آخری نمبر میں زیادہ نمایاں ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے لکھتا ہے :۔کوئی بھلا آدمی اسی بات پر قسم کھا سکتا ہے جس کے وقوع کی اسے پیش از وقت خبر دی گئی ہو۔اور اسے آسمان سے یقینی اطلاع مل چکی ہو۔“ (عشره صفحه ۸۳) اگر چہ یہ ضروری نہیں کہ انسان ہر یقینی بات پر بلا ضرورت قسم کھاتا رہے اسلئے انبیاء کرام کے وہ دعاوی یا وہ پیشگوئیاں جن پر ان کی قسمیں ثابت نہیں غیر یقینی قرار نہیں پاسکتیں۔یہی حال حضرت یونس کی پیشگوئی کا ہے۔لیکن تاہم معترض کے الفاظ سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس پیشگوئی کے متعلق یقینی کلمات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ کو اس کے وقوع کی پیش از وقت خبر دی گئی تھی اور آپ کو آسمان سے یقینی اطلاع مل چکی تھی۔معزز قارئین ! حق بر زبان جاری اسی کو کہتے ہیں۔یہ ایک واضح ترین صداقت ہے کہ خود ساختہ کلام یا شیطانی کلمات میں یقین تام کی طاقت نہیں ہوا کرتی۔یہ قوت محض کلامِ خداوندی سے مختص ہے اور بحمد اللہ کہ دشمن بھی اس یقینی قوت کا حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے کلام میں پایا جانا مانتا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا اب ہم مکمل طور پر اس نمبر کے اعتراضات کا جواب لکھ چکے ہیں۔(371)