تفہیماتِ ربانیّہ — Page 358
کی نسبت اخبارات میں یہ الہام چھپوائے گئے اِنَّ الْمَنَايَا لَا تَطِيشُ سِهَا مُهَا یعنی موت کے تیر نہیں ملیں گے۔مبرم موت ہے۔پھر الہام ہؤا کفن میں لپیٹا گیا۔پھر الہام ہو اے ۴ برس کی عمر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔چنانچہ پورے ۷ ۴ برس کا کا کی عمر میں فوت ہو گئے۔الخر" ( الذكر احکیم نمبر ۴ صفحه ۲۲) ان بیانات سے ظاہر ہے کہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی صحت یابی کی خبر مشتمل الہام حضرت اقدس کو کوئی نہ ہو ا تھا بلکہ الہامات ظاہری الفاظ میں اس کے برخلاف متواتر موت کی خبر دے رہے تھے۔لہذا معترض پٹیالوی نے حضور کے بیان مندرجہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۲۶ کو جھوٹ قرار دے کر ایک نا پاک افتراء کیا ہے بع میں الزام ان کو دیتا تھا قصورا اپنا نکل آیا وو (۷) حضرت یونس کے واقعہ کی حقیقت معترض پٹیالوی نے لکھا ہے :۔” جب نکاح والی پیشگوئی کے پورا ہونے سے مرزا صاحب مایوس ہو گئے اور قلبی صدمہ کے علاوہ مرزا صاحب کو اعتراضوں کی بوچھاڑ اور خوف کا خیال ہوا تو آپ آخری وقت کی تصنیف تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۳۲ و ۱۳۳ میں لکھتے ہیں کہ نکاح کے لئے ایک شرط تھی۔جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔آگے چل کر کہتے ہیں کہ کیا یونس علیہ السلام کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔جس میں بتایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ۴۰ دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا مگر عذاب نازل نہ ہوا۔حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح ا تتمہ حقیقة الوحی ۲۰ مارچ ۱۹۰۷ء کی تصنیف ہے۔اس کے بعد حضور نے چشمہ معرفت، رسالہ پیغام صلح وغیرہ تالیف فرمائی ہیں۔اس کو آخری وقت کی تصنیف کہنا ہی جھوٹ ہے۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو حضور کا وصال ہوا ہے باقی شرط کا ذکر تو اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء اور انجام آتھم صفحہ ۲۲۳ پر بھی مذکور ہے۔کمامر وسیأتی ایضاً۔یہ دوسرا جھوٹ ہے۔(مؤلف) سے اس یا “ کی حکمت فصل دہم میں مذکور ہے۔" (358)