تفہیماتِ ربانیّہ — Page 339
( 3 ) نزول مسیح میں متعدد پیشگوئیوں کے گواہ لالہ شرمیت اور ملاوامل آریہ ساکنانِ قادیان کو درج کرتے ہوئے ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں :- تو اس سے زبر دست اور کیا ثبوت ہوگا کہ آریہ جو دین کے پکے دشمن ہیں اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔منجملہ ان کے لالہ شرمت اور لالہ ملاوال ساکنان قادیان جواب تک زندہ موجود ہیں اس نشان سے خوب واقف ہیں۔ان کے لئے بڑی مصیبت ہے کہ اسلام کی گواہی دیں لیکن اگر یہ مقام براہین احمدیہ کا ان کو دکھلایا جاوے اور ان کی اولاد کی ان کو قسم دی جاوے کیونکہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف نہیں تو ممکن نہیں کہ جھوٹ بولیں۔“ ( نزول مسیح صفحہ ۱۳۵) حضرات قارئین! ان پانچ اقتباسات سے ظاہر ہے کہ اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مرید اس وقت ستر ہزار ہی تھے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے نشانات جو آسمان، زمین، آپ کی ذات ، اولاد، خاندان، گھر، آپ کی بستی ، پنجاب ، ہندوستان ، ممالک بیرونی ، پھر دشمنوں، دوستوں، رعایا، حکومت خشکی اور تری سے متعلق ہیں ان کے یقیناً ساٹھ لاکھ بلکہ اس سے زیادہ گواہ ہیں۔صَدَقَ اللهُ وَرَسُولَهُ - مؤلف عشرہ نے اس مبنی بر حقیقت بیان کو کراماتی جھوٹ“ لکھا ہے۔اگر فی الواقع پٹیالہ میں جھوٹ کی یہ بھی کوئی قسم ہے تو مجھے کہنے دو کہ اس کے مرتکب منشی محمد یعقوب ہیں نہ حضرت مرزا صاحب! إِنَّ فِى ذَالِكَ لَعِبْرَة لِأُولى الْأَلْبَار حديث هذَا خَليفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِی کا جواب (۲) معترض پٹیالوی شہادة القرآن صفحه ۴۱ سے هذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِی کے متعلق عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے :۔مرزا صاحب نے یہ بالکل جھوٹ لکھا ہے کہ هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِی بخاری کی حدیث ہے۔کوئی مرزائی صاحب ہمت کر کے بخاری میں یہ دکھا ئیں۔(عشرہ صفحہ ۷۸) لے ملاوائل آریہ آج (۱۴ار دسمبر ۱۹۳۰ء) تک زندہ ہے۔(مؤلف) سے طبع دوم (۱۹۶۴ء) کے وقت ملاوامل بھی فوت ہو چکا ہے۔(مؤلف) (339)