تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 239 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 239

پس حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو دشمن نے قابل اعتراض بتایا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزگی قلب اور راستبازی کا ایک بین ثبوت ہے۔آپ نے محض اسلئے کہ سکھوں کی تاریخ کا یہ بیان ہے اس کو ٹھکر انہیں دیا بلکہ اول ایک کامل موحد کی حیثیت میں یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے رُو سے ممکن بتائی اور پھر ایک عارف باللہ کی حیثیت میں اس کی توجیہ فرمائی تا کہ مخالف بھی اس دعوی کی تغلیط نہ کر سکیں۔گویا نیچریوں کے اعتراض کو بھی دُور کر دیا اور حقیقت حال بھی ذکر کر دی۔ایسے مجمل کلام ( یعنی انگد کا بیان ) میں تاویل کا دروازہ کھلا ہوتا ہے۔کیونکہ اول تو یہ دعوئی الہامی نہیں جو قطعی ہو۔دوست اس کی تاویل کی ضرورت بھی ہے۔آہ! وہی بات جو ایک متقی اور مومن کے دل کو اپیل کرتی ہے اس کو دیکھ کر معاند معترض بن جاتے ہیں ے آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سوسوحجاب ورنہ قبلہ تھا تیرا رُخ کافر و دیندار کا چھٹا اختلاف نزول حضرت مسیح علیه السلام۔اس عنوان کے نیچے معترض پٹیالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پانچ تحریرات درج کی ہیں اور بزعم خویش اس کو اختلافات کے چھٹے نمبر پر رکھا ہے۔حالانکہ ان سے منشی صاحب کا مطلب ہرگز حاصل نہیں ہوتا۔چنانچہ دیکھئے۔(الف) پہلی عبارت آپ نے براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۸ سے پیش کی اور مسیح کی دوبارہ آمد والا حوالہ ذکر کیا ہے۔اس حوالہ کے متعلق ہم قبل ازیں بحث کر چکے ہیں اس جگہ صرف ایک حوالہ درج کرنا کافی ہے۔حضور نے خود تحریر فرمایا ہے :۔میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آجکل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات مجھکے ہوئے ہیں۔سواسی ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں اور میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے۔لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور (239)