تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 227 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 227

دو جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے ، اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۸ طبع سوم) پھر ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں :- اب بجز محمد سمی نبوت کے سب نبو تیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے، مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔پس اسی بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی ہوں۔“ (تجلیات الہیہ صفحہ ۲۵) چوتھا اختلاف - حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر۔اس عنوان کے نیچے معترض پٹیالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”ست بچن اور ازالہ اوہام کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آپ کے نزدیک مسیح کی قبر یروشلم میں تھی (ست بچن صفحہ (۱۳) مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا (ازالہ صفحہ ۲۷۳) بلاد شام میں حضرت عیسی کی قبر کی پرستش ہوتی ہے۔(ست بچن صفحہ ۱۶۴) اب تک کشمیر میں مسیح کی قبر موجود ہے۔(ست بچن حاشیہ صفحہ ۱۶۴) ان حوالجات کو درج کرنے کے بعد منشی محمد یعقوب صاحب لکھتے ہیں :- ”اب ناظرین ہر چہار اقوال پر غور کر کے خود ہی نتیجہ نکال لیں کہ مرزا صاحب کی کونسی بات کو سچ مانا جائے۔پہلے مسیح کی قبر یروشلم میں بتلاتے ہیں۔پھر ان کے اپنے وطن گلیل میں ، پھر بلادِ شام میں اور پھر ان تینوں مقامات کو چھوڑ کر سری نگر کشمیر میں۔کیا حضرت عیسی علیہ السلام چار جگہ (227)