تفہیماتِ ربانیّہ — Page 215
_: اختلاف قرآن شائع کیا ہے۔آریہ سماج کے پانی پنڈت دیا نند نے بھی لکھا ہے کہ کہیں تو قرآن میں لکھا ہے کہ اونچی آواز سے اپنے پروردگار کو پکارو۔اور کہیں لکھا ہے کہ دھیمی آواز سے خدا کو یاد کرو۔اب کہئے کونسی بات سچی اور کونسی بات جھوٹی ہے۔ایک دوسرے کے متضاد باتیں پاگلوں کی بکواس کی مانند ہوتی ہیں۔“ آریہ اور عیسائی مناظرین مباحثات میں بالعموم اپنی کوتاہ فہمی سے کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن مجید میں کوئی اختلاف نہیں تو ان آیات کا کیا جواب ہے۔مثلاً (۱) ایک طرف وَوَجَدَكَ ضَالا فرمایا اور دوسری طرف مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ مذکور ہے۔(۲) ایک جگہ إِنَّكَ لَتَهْدِى إِلى صِرَاطٍ مُسْتَقِیم ہے اور دوسری طرف إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ احببت وارد ہے۔(۳) ایک سورۃ میں ہے لِمَ حَشَرَ تَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا اور دوسری میں لکھا ہے فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيد (۴) ایک طرف ہے اِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ اور دوسری جگہ ہے آلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبِ (۵) ایک جگہ آتا ہے اِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ اور دوسرے مقام پر وَاِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَمَّا مَقْضِيًّا آيا ہے ((۲) ایک آیت میں اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِمَّا فَأَوَى فرما یا اور دوسری جگہ اِمَّا يَبْلُغَنَ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا نازل ہو اوغیرہ۔بلا شک و شبہ قرآن مجید میں ایک ذرہ بھر اختلاف نہیں۔اور احمدیہ لٹریچر میں مخالفین کے ان اور ایسے ہی دوسرے تمام اعتراضات کے جواب نہایت مفصل اور مدلل موجود ہیں، اور دیئے جاتے ہیں۔یہ ان جوابات کے لکھنے کا موقع نہیں بلکہ اس وقت اس ذکر سے ہمارا مقصد صرف یہ بتلانا ہے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ صرف مخالفین اور مکذبین کے کہنے سے ہی کسی الہامی کتاب یا کسی نبی کے کلام میں تضاد ثابت ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں سب انبیاء اور اُن کی کتابوں سے انکار کرنا پڑے گا۔(اعاذنا الله منه ) لہذا سب سے پہلے مرحلے پر اس فصل پنجم کے اعتراضات کے جواب میں ہم یہی کہیں گے کہ سید اعتراض منکرین کی طرف سے ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور ایسی ایسی پاکیزہ اور با ترتیب (215)