تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 214 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 214

تو وہ متناقض کہلا ئیں گے۔کیا اس طور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی ایک عبارت بھی کسی دوسری سے مختلف ہے تا ان عبارات کو متناقض بیانات کہا جا سکے؟ ہرگز اور قطعا نہیں ! اگر آج ایک نبی ایک بات اپنے خیال کے مطابق کہتا ہے لیکن کل کو خدا تعالیٰ اسے بتلاتا ہے کہ یہ غلط ہے صحیح بات یوں ہے اور پھر وہ اس کا اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق اعلان کر دیتا ہے کیا یہ تناقض ہے؟ ہر گز نہیں۔پس امرِ اول تو یہی ہے کہ تناقض اور اختلاف کے مفہوم کی تعیین ضروری ہے۔امر دوم۔دوسری بات یہ یاد رکھنی چاہئے کہ معترض پٹیالوی کے دعوئی اور دلیل میں کوئی جوڑ نہیں۔کیونکہ اس نے دعوئی یہ کیا تھا کہ آیت وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِیراً کے رُو سے حضرت مرزا صاحب کا مفتری اور جھوٹا ہونا ثابت کروں گا۔ہم اختصار کلام کی خاطر اس کے بیان کردہ معنوں کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں اور اختلاف کا مفہوم بھی اختلاف بیان ہی مان لیتے ہیں مگر صرف اتنا واضح کرنا چاہتے ہیں کہ لَوَجَدُوا فِیه میں ہی کی ضمیر کا مرجع قرآن مجید ہے جیسا کہ آیت کے پہلے حصہ میں مذکور ہے أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ۔پس مطلب آیت یہ ہوا کہ قرآن مجید جو اللہ تعالیٰ کا الہام اور اس کا متلو کلام ہے، اس میں اختلاف نہیں۔اور اگر اس میں اختلاف ہوتا تو یہ رسول کریم کے منجانب اللہ ہونے کے خلاف تھا۔اس دعویٰ کے مطابق منکر پٹیالوی کا فرض تھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں اپنا مزعومہ اختلاف پیش کرتا مگر جیسا کہ ابھی تفصیلاً آپ پڑھیں گے اُس نے اس فصل میں الہامات کے متعلق نہیں بلکہ حضرت کی اپنی تحریرات کے متعلق بحث کی ہے۔بہر حال دعوئی اور دلیل میں مطابقت نہیں۔موجودہ اعتراضات کی رو سے آیت مذکورہ کو عنوان میں درج کرنا علم قرآن سے اپنی محرومی کا ثبوت دینا ہے۔امرسوم۔یہ بھی حل طلب بات ہے کہ اختلاف کے وجود و عدم وجود میں رکس کے فیصلہ پر انحصار ہوگا، کیا معاند اور مخالف لوگوں کی بات قطعی حجت ہوگی ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔کیونکہ اگر ایسا تسلیم کیا جاوے تو ان کے نزدیک تو قرآن مجید میں بھی ت سے اختلافات موجود ہیں۔عیسائیوں نے خاص اسی موضوع پر ایک رسالہ (214)