تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 202 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 202

وَيَقُولُ لَكَ مُعَبْرُ الْمَنِامِ صَحِيحٌ مَا رَأَيْتَ وَلَكِنَّ تَاوِيْلَهَا كَذَا وَكَذَا فَقَدْ قَبِلَ الْمُحَالُ الْوَجُودَ فِي هَذِهِ الْحَضْرَةِ (اليواقيت والجواہر جلد اول صفحه ۱۶۳) ترجمہ - تم خواب میں اللہ تعالیٰ کو جس کی در حقیقت کوئی شکل نہیں، کسی شکل میں متمثل دیکھ سکتے ہو۔اور تعبیر کرنے والا خواب کو صحیح قرار دے کر اس کی تعبیر کرے گا۔اس عالم کشف میں ایک محال چیز موجود ہوگئی۔“ پس خواب میں اللہ تعالیٰ کو تمثل دیکھنے سے اُس کا جسم لازم نہیں آتا۔آپ کو وہ حدیث تو یاد ہی ہوگی جس پر ہم قبل از میں بحث کر چکے ہیں۔یعنی وہ حدیث رَأَيْتُ رَبِّي فِي صُورَةٍ شَاتٍ أَمْرَدَ لَهُ وَفُرَةٌ۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو ایک نوخیز نوجوان کی شکل میں دیکھا جس کے لمبے بال تھے۔“ ایک حدیث میں ہے :- آتَانِيَ اللَّيْلَةَ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ أَحْسِبُهُ قَالَ فِى الْمَنَامِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَدْرِئُ فِيمَا يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْداً بَيْنَ ثَدَئَ فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ - ترجمہ - آج رات خواب میں میرا رب میرے پاس نہایت اچھی شکل میں آیا۔اس نے فرمایا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تجھے معلوم ہے کہ ملاء اعلیٰ کس بات میں جھگڑتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان (پشت پر رکھا یہاں تک کہ مجھے سینے میں ٹھنڈک محسوس ہوئی اور مجھے آسمانوں اور زمین کا علم ہو گیا۔(در منثور جلد ۵ صفحہ ۳۱۹ و جامع ترمذی جلد ۲ صفحه ۱۵۵) پھر لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو سبز لباس میں دیکھا۔(کتاب الاسماء والصفات صفحه ۳۱۴ مطبوعہ الہ باد ) حضرت عبد القادر صاحب جیلانی فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو ایک دفعہ اپنی ماں کی شکل میں دیکھا۔رایت رب العزة في المنام على صورة امى ( بحر المعانی صفحہ ۶۴ مصنف محمد بن نصیر الدین ) غرض کشفی حالت بالکل جدا گانہ حالت ہے اس سے خدا کے مجسم ہونے پر استدلال کرنا سراسر حماقت ہے اور حضرت اقدس کے اس کشف کے متعلق ابتدائی الفاظ یعنی ایک دفعہ مثلی (202)