تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 201 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 201

صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر مر مٹنے کے دعویدارو! خدارا میل کر اور علیحدگی میں غور کرو کہ کیا ایسا انسان جو خود اسلام کی بے نظیر خدمت کرنے والا ہو، اور لاکھوں نفوس کو اسلام کا شیدا بنادے جو اپنے مال، جان اور وطن قربان کر کے کلمہ توحید کی اشاعت کے لئے دریاؤں ،سمندروں اور پہاڑوں کو چیرتے ہوئے ریگستانوں کی گرمی اور کو برداشت کرتے ہوئے آسمانی پیغام پہنچاویں اور نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے دُنیا کے کناروں کو گونجا دیں کیا ایسا انسان فرعون ہے؟ یا کیا وہ اسلام سے خارج ہے؟ اُف! اتنا کفر ؟ اتنی بے انصافی ؟ اتنا ظلم؟ مگر مجھے کیا شکوہ ہو ہمیشہ سے اندھی دنیا راستبازوں کے ساتھ ایسا ہی کرتی آئی ہے۔خدا کے مسیح نے خوب فرمایا ہے غفلت پر غافلوں کی روتے رہے ہیں مرسل اب اس زماں میں لوگو نوحہ نیا یہی ہے (۱۰) کاغذات پر اللہ تعالیٰ کے دستخط معترض پٹیالوی نے دسویں نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ کشف درج کیا ہے جس میں حضور نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ اُس نے بعض کا غذات پیش کردہ پر دستخط فرمائے ہیں اور اُس وقت کچھ قطرات روشنائی کے حضور کے گرتہ پر پڑ گئے جو حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری نے لے لیا۔(حقیقة الوحی صفحہ ۲۵۵) اس کو درج کرنے کے بعد جو اعتراضات کئے ہیں ان کے نمبر وار جواب حسب ذیل ہیں۔اعتراض اوّل۔اللہ تعالیٰ کا جسم ہے جو میز کرسی یا گاؤ تکیہ لگائے کچہری کا کام کر رہا تھا۔‘ (عشرہ صفحہ ۵۱) الجواب 1 - جب تم خود اس واقعہ کو کشف یا خواب (عشرہ صفحہ ۵۰) تسلیم کرتے ہو تو پھر اس سے اللہ تعالیٰ کے مجسم ہونے کا استدلال کیسے کر سکتے ہو۔اس واقعہ کا کشف ہونا ہی اس استدلال کی کافی تیز دید ہے۔خواب کے معاملات کو ظاہر پر قیاس کرنا خود غلطی ہے۔خواب کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو شنلی صورت میں دیکھ سکتے ہیں اور اس سے اس کا جسم ثابت نہیں ہوتا۔اگر ہماری بات نہیں مانتے تو امام شعر آنی کے منہ سے ٹن لیجئے۔فرماتے ہیں :- إِنَّكَ تَرَى فِيهِ (فِي الْمَنَامِ) وَاجِبَ الْوُجُوْدِ الَّذِي لَا يَقْبَلُ الصُّوَرَ فِي صُورَةٍ (201