تفہیماتِ ربانیّہ — Page 15
کر دیتے جیسا کہ بادشاہ ان کے ساتھ کرتے ہیں جو اُن پر جھوٹ باندھتے ہیں۔“ علامہ شیخ احمد صاوی لکھتے ہیں :- وَ الْمَعْنَى لَوْ كَذِبَ عَلَيْنَا لَا مَتْنَاهُ فَكَانَ كَمَنْ قُطِعَ وَتِيْنُهُ - ( تفسیر صاوى علی الجلالین جلد ۲ صفحہ ۲۳۸) اگر یہ ہم پر جھوٹ باندھتا تو ہم اس کوفور أمروا دیتے “ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے :- قَالَ شَيْئًا مِّنْ عِنْدِهِ فَنَسَبَهُ إِلَيْنَا وَلَيْسَ كَذَلِكَ لَعَاجَلُنَاهُ بِالْعُقُوبَةِ ـ کہ اگر یہ رسول اپنے پاس سے ایک بات بنا کر ہماری طرف منسوب گر دیتا تو ہم اس کو جلد سزا دیتے۔“ (ابن کثیر جلد ۱۰ صفحہ اے برحاشیہ فتح البیان ) تفسیر روح البیان میں لکھا ہے :- فِي الْآيَةِ تَنْبِيْهُ عَلَى أَنَّ النَّبِى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَوْ قَالَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ شَيْئًا أَوْ زَادَ أَوْ نَقَصَ حَرْفًا وَاحِدًا عَلَى مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ لَعَاقَبَهُ اللَّهُ وَهُوَ اكْرَمُ النَّاسِ عَلَيْهِ فَمَا ظَنُّكَ بِغَيْرِه ( جلد ۴ صفحه ۴۶۲) که اس آیت (لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا) میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی بات اپنے پاس سے کہ دیتے یا وحی میں کمی و بیشی کر دیتے تو اللہ تعالی انکوسخت سزا دیتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجودیکہ اللہ کے ہاں سب سے اکرم ہیں جب آپ کا یہ حال ہے تو دوسرا مفتری کیونکر بچ سکتا ہے۔“ علامہ سیوطی رقمطراز ہیں :- ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ نِيَاطَ الْقَلْبِ وَهُوَ عِرْقُ مُّتَّصِلُ بِهِ إِذَا انْقَطَعَ مَاتَ صَاحِبُه (جلالین مطبع مجتبائی صفحہ ۴۷۰) قطع الوتین سے مراد موت ہے کیونکہ الو تین دل کی رگ کا نام ہے۔جب وہ کٹ جاتی ہے تو انسان مر جاتا ہے۔“ فتح البیان میں لکھا ہے :- الْمَعْنَى لَقَتَلْنَاهُ صَبْراً كَمَا يَفْعَلُ الْمُلُوكَ بِمَنْ يَتَكَذَّبُ عَلَيْهِمْ مُعَا جَلَةَ بِالشَّخْطِ وَالْاِنْتِقَامِ ( جلد ۱ صفحہ ۴۷) یعنی اس آیت کے معنی یہ ہیں 15