تفہیماتِ ربانیّہ — Page 16
که افتراء کی صورت میں ہم اس کو جلد ہلاک کر دیتے جیسا کہ بادشاہ اُن لوگوں کے متعلق کرتے ہیں جو اُن پر افتراء باندھتے ہیں۔“ شہاب لکھتے ہیں : ۱۰ هُوَ تَصْويرُ لِأَهْلَا بِه بِافْظَعَ مَا يَفْعَلُهُ الْمُلُوكُ بِمَنْ يَغْضِبُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ اَنْ يَأخُذَ الْقَتَالُ بِيَمِينِهِ وَيَكْفَحَهُ بِالسَّيْفِ وَيَضْرِبَ بِه حِيْدَهُ (شباب على البيضاوى جلد صفحه ۲۴۱) قطع الوتین وغیرہ میں ہلاکت مفتری کا وہ بھیانک ترین نقشہ کھینچا گیا ہے جو شاہان وقت ان کے لئے اختیار کرتے ہیں جن پر وہ ناراض ہوتے ہیں اور وہ یوں کہ جلا داس شخص یا مفتری کا دایاں ہاتھ پکڑیگا اور تلوار سامنے سے چلا کر گردن اُڑا دیگا۔علامہ الخطيب الشربینی فرماتے ہیں : قَالَ السُّدِّى وَمُقَاتِلُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا انْتَقَمْنَا مِنْهُ بِالْحَقِّ وَالْيَمِينِ عَلَى هَذَا بِمَعْنَى الْحَقِّ (السراج المنیر جلد۲ صفحہ ۳۶۳) امام سید کی اور مقاتل کا قول ہے کہ اَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ سے یہی مراد ہے کہ ہم مفتری سے یقیناً انتقام لیتے ہیں۔تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ - تفاسیر کے ان حوالجات سے ظاہر ہے کہ مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مفتری کی سزا کا ذکر ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کو اس قدر عرصہ کی مہلت نہیں دی جاسکتی۔جتنا عرصہ کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعوئی کا اعلان فرماتے رہے۔یعنی ۲۳ برس۔بلکہ وہ جلد تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے اور اس کا سلسلہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔مفسرین اس بیان میں متفق اللسان ہیں۔اگر مجھے طوالت کا خوف نہ ہوتا تو جملہ تفاسیر کے حوالجات نقل کر دیتا۔بہر حال مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت میں مفتری کی جلد ہلاکت و بربادی کا معیار مذکور ہے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کاذب مدعی الہام کو تئیس سال تک پہنچنے کا موقعہ نہیں دیتا۔دن آیات قرآنیہ اور مفتری کی ہلاکت ناظرین کرام! آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے مفہوم کی تائید اور مکذب پٹیالوی کے بیان دفتر آن شریف میں کہیں ذکر نہیں کہ مفتری جلد ہلاک کر دیا جاتا 16