تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 147 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 147

کہ اس قرآن کو شیطانوں نے نہیں اُتارا۔اور نہ ان کو یہ طاقت ہے۔وہ تو آسمانوں کی خبریں سننے سے آگ کے شعلوں کے ساتھ (اب) رو کے جاتے ہیں ہم تمہیں بتادیں کہ شیطان کن لوگوں پر اترتے ہیں۔وہ بڑے جھوٹے گنہگاروں پر اُترتے ہیں اور ان کو وہ جو کچھ چوری سے سن پاتے ہیں پہنچاتے ہیں۔وہ اکثر باتوں میں جھوٹے نکلتے ہیں۔اس جواب کا ماحصل (چنانچہ بیضاوی و امام رازی نے بیان کیا ہے ) یہ ہے کہ قرآن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے دو وجہ سے القاء شیطانی نہیں ہو سکتا۔اوّل یہ کہ جن لوگوں کے پاس شیطان اُترا کرتے ہیں وہ اپنے اعمال اور افعال میں شیطانوں کے دوست اور بھائی ہوتے ہیں۔بڑے گنہگار اور بڑے جھوٹے۔اور یہ باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی نہیں جاتیں وہ شیطان کے دشمن ہیں اور اس کو لعنت کرنے والے، جھوٹ اور گناہوں سے پاک ، اور ان سے منع کرنے والے۔دو مر وہ باتیں جو شیطان لاتے ہیں اکثر جھوٹی نکلتی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن کی ایک بات بھی جھوٹی نہیں۔یہی جواب ہم الہامات مؤلف براہین احمدیہ کی طرف سے دے سکتے ہیں کہ شیطان اپنے ان دوستوں کے پاس آتے ہیں اور ان کو (انگریزی خواہ عربی) پہنچاتے ہیں جو شیطان کی مثل فاسق و بدکار اور جھوٹے دوکاندار ہیں۔اور مؤلف براہین احمدیہ مخالف و موافق کے تجربہ اور مشاہدہ کے رُو سے (واللہ حسیبہ) شریعت محمدیہ پر قائم و پرہیز گار اور صداقت شعار ہیں۔اور نیز شیطانی الہام اکثر جھوٹ نکلتے ہیں اور الہامات مؤلف براہین احمدیہ سے (انگریزی میں ہوں خواہ ہندی و عربی وغیرہ) آج تک ایک بھی جھوٹ نہیں نکلا (چنانچہ ان کے مشاہدہ کرنے والوں کا بیان ہے گو ہم کو ذاتی تجربہ نہیں ہوا) پھر وہ القاء (147)