تفہیماتِ ربانیّہ — Page 6
کی رُو سے قابلِ اعتراض اور غیر مانوس معلوم ہوتے ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵) ایسے الفاظ نہ ایک دو بلکہ انبار کا انبار ہیں۔میں ان کے لئے منشی صاحب یا ان کے مشیران کار کا شکوہ کرنا نہیں چاہتا۔لیکن میں دنیا کے شرفاء کے سامنے اس ذہنیت پر اظہارِ افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ایک شخص لاکھوں انسانوں کے پیشوا، جان ، مال اور عزت سے بدرجہا محبوب پیشوا، پر حملے کرتا ہے ، نا واجب اور سوقیانہ الفاظ استعمال کرتا ہے ، لاکھوں بندگانِ خدا کے دلوں کو دُکھ دیتا ہے۔اور پھر اس کو خدمت دین سمجھتا ہے۔کیا سچ مچ اسلام کا یہی منشاء ہے؟ کیا بانی اسلام کا یہی اُسوہ ہے؟ اور پھر کیا اسی طریق سے قلوب کی اصلاح ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔حَاشَاوَ كَلَّا۔میں ان فقرات کو نقل کر کے جو محض دل آزاری کے لئے لکھے گئے ہیں اپنے ناظرین کو ملول خاطر نہیں کرنا چاہتا۔بطور نمونہ ایک فقرہ یہ ہے۔"مرزا صاحب کی تعلیم کی مثال ایک شاہد بازاری کی سی ہے۔“ (صفحہ ۱۴) فرمائیے ان الفاظ کا مقصد بجز تو ہین کچھ اور بھی ہو سکتا ہے؟ کیا شریف انسان اپنے سے مختلف الخیال انسان کو انہی الفاظ سے یاد کیا کرتا ہے؟ میں الزامی جواب کو پسند نہیں کرتا لیکن چونکہ منشی صاحب نے اپنی کتاب میں بار بار اس کا مطالبہ کیا ہے نیز چونکہ ایک قسم کے لوگ بجز الزامی جواب سے تسلی نہیں پاتے اس لئے بعض جگہ مجبورا الزامی جواب درج کئے ہیں۔لیکن ہر مقام پر اس کے متعلق کافی وضاحت موجود ہے تاکہ کسی کو مغالطہ دہی کا موقعہ نہ مل سکے۔اور اس جگہ بھی میں لکھ دینا چاہتا ہوں کہ میری کتاب کے تمام ایسے مقامات جہاں دشمن کے عقائد یا اس کے مسلمہ معانی کو ذکر کیا گیا ہے اور ان کے رُو سے کوئی خرابی بتائی گئی ہے ان تمام مقامات کی ذمہ واری غیر احمدیوں کے خیالات پر ہے، مجھ پر یا جماعت احمدیہ پر نہیں ہے۔ہم خدا تعالیٰ کی کامل توحید 6