تفہیماتِ ربانیّہ — Page 92
معترض ہونا ان کی قصور نہی ہے ، اُن کے لئے ہمارا ایک ہی جواب ہے نه تنها من درین میخانه مستم جنید و شبلی و عطار شد مست ہمیشہ سے فرزندانِ تاریکی کا شیوہ رہا ہے کہ وہ آسمانی علم کے بالمقابل اپنے زمینی اور خشک علم پر نازاں ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَرِحُوا تِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ (المؤمن رکوع ۹ ) کہ جب اُن کے پاس ہمارا رسول آیا تو انہوں نے اپنے علم پر اترانا شروع کر دیا۔اسی ظاہر بیت سے تنگ آکر مولانا روم فرماتے ہیں گر بعلم خشک کار دیں بدے فخر رازی رازدار دیں بدے سید نا حضرت مسیح موعود نے اس کی یوں اصلاح فرمائی گر بعلم خشک کارِ دیں بدے ہر لئیے رازدار دیں بدے پس نہ صرف حضرت مسیح موعود پر استعارات میں کلام نازل ہوا بلکہ ہر نبی کا یہی حال تھا۔حضرت مسیح ناصری تو گفتگو بھی تمثیلوں میں کرتے تھے۔اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ فصاحت و بلاغت کا بھی تقاضا تھا اور طبقات دنیا کی تسلی کا بھی یہی ذریعہ تھا۔باقی حقیقت سے ڈور لوگ اسی بناء پر اولیاء اللہ کو ستاتے رہے ہیں۔سو حضرت اقدین کا بھی اس ایڈا سے حصہ پانا ضروری تھا تا صادقین کی یہ ضروری علامت بھی پوری ہو جائے نعم ما قال المسيح الموعود الامه كَفَرْتَ وَمَا التَّكْفِيرُ مِنْكَ بِبَدَعَةِ رَسُمْ تَقادَمَ عَهْدُهُ الْمُتَقَدِّمُ 92