تفہیماتِ ربانیّہ — Page 805
کا دوسرا ایڈیشن بہت جلد شائع ہورہا ہے۔اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب یہ شائع ہوئی تھی۔تو ہر مبلغ اور تبلیغ احمدیت کا شغف رکھنے والے دوست نے اسے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا تھا۔اور اس کا تفصیلی انڈکس بنا کر شامل کر لیا تھا۔اور جب بھی کوئی مخالف اعتراض کرتا تھا۔جھٹ اس کا جواب نکال کر پیش کر دیتا تھا۔چنانچہ میں نے بھی اس کا انڈکس بنایا تھا۔جس سے میں اب تک برابر فائدہ اُٹھا رہا ہوں۔میرے نزدیک یہ کتاب مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے ایک قسم کی انسائیکلو پیڈیا ہے۔یہ امر اور بھی باعث مسرت ہے کہ مرویر زمانہ کے ساتھ ساتھ جو نئے اعتراضات پیدا ہو گئے ہیں ان کو بھی مدنظر رکھ کر کتاب کے حجم میں خاصہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔جس سے گویا اس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔مجھے خوب یاد ہے۔جب یہ کتاب پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی، تو سلسلہ کے ایک بزرگ نے اسے پڑھ کر فرمایا تھا کہ محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے دفاع احمدیت کے سلسلہ میں یہ اتنا بڑا کام کیا ہے کہ رہتی دنیا تک مجاہدین احمدیت آپ کے مرہونِ منت رہیں گے۔پس واقفین زندگی اور تبلیغ احمدیت سے دلچسپی رکھنے والے احباب کو چاہئے کہ اس کتاب کو حاصل کر کے ایک کار آمد تبلیغی ہتھیار کو اپنے قبضہ میں کر لیں۔“ (۷) جناب مولوی غلام باری سیف پروفیسر جامعہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں :- و تفہیمات ربانیہ ہمیشہ درجہ مبلغین کے نصاب میں رہی ہے۔ایک واقعہ کی وجہ سے میں اس کو کبھی نہیں بھول سکتا۔طالب علمی کے دوران اس کے نوٹ بہت تفصیل سے میں نے لئے تھے۔غالباً ۱۹۴۴ء میں گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں مناظرہ تھا۔ہماری طرف سے محترم ملک عبد الرحمن صاحب خادم مناظر تھے۔فریق ثانی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک اعتراض کیا اور ایک دوبار اس کے جواب کا مطالبہ کیا۔اس پر میں نے ”تفہیمات ربانیہ کے (805)