تفہیماتِ ربانیّہ — Page 782
مرزائی حضرات لفظ خاتم کے منی نفی کمال کے لیتے ہیں نفی جنس کے نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خاتم کا لفظ کہیں بھی نفی جنس کے ساتھ استعمال نہیں ہوا۔اگر ہو ا ہو تو مثال کے طور پر بتایا جائے۔ان کا چیلنج ہے کہ جو شخص عربی لغت میں خاتم کے معنی نفی جنس کے دکھا دے اس کو انعام ملے گا۔نفی کمال کی مثالیں وہ یہ دیتے ہیں کہ مثلاً کسی کو خاتم الاولیاء کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ولایت اُس پر ختم ہوگئی بلکہ حقیقی مطلب یہ ہوتا ہے کہ ولایت کا کمال اُس پر ختم ہوا۔اقبال کے اس فقرے کو بھی وہ نظیر میں پیش کرتے ہیں ے آخری شاعر جہاں آباد کا خاموش ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جہاں آباد میں اس کے بعد کوئی شاعر پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ ہے کہ وہ جہاں آباد کا آخری باکمال شاعر تھا۔اسی قاعدے پر وہ خاتم النبیین کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کمالات نبوت ختم ہو گئے نہ یہ کہ خود نبوت ہی ختم ہو گئی۔( رسائل و مسائل صفحہ ۳۲) مودودی صاحب یا کوئی اور مولوی آج تک اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا۔یادر ہے کہ عربی زبان اور اس کے محاورات میں جب کبھی خاتم النبیین کے طریق پر کوئی مرکب اضافی نسی کی مدح میں استعمال ہوا ہے ( جس استعمال کی عربی زبان میں بہت سی مثالیں موجود ہیں ) تو ایسے مرکب اضافی کے معنی ہمیشہ اُس جماعت مضاف الیہ کے اعلی ، کامل اور انتہائی افضل فرد کے ہوتے ہیں اور وہ فرد اپنے کمال میں بے مثال اور عدیم النظیر ہوتا ہے۔چنانچہ ایسے استعمالات کی کم و بیش پچاس مثالیں جو ہم نے یہاں اپنے ملک میں اور بلا دعر بیہ میں بھی بار بار شائع کی ہیں حسب ذیل ہیں :۔خاتم مرکب اضافی کی مثالیں ۱ ابو تمام شاعر کو خاتم الشعراء لکھا ہے۔( وفیات الاعیان جلد اول) ۲ - ابو الطیب کو خاتم الشعراء کہا گیا ہے۔(مقدمہ دیوان المنتقبی مصری صفحه ی ) ۳- ابوالعلاء المعری کو خاتم الشعراء قرار دیا گیا ہے۔(حوالہ مذکورہ حاشیہ صفحہی) (782)