تفہیماتِ ربانیّہ — Page 778
تُيْمُّ رَضَاعَتَهُ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔“ کہ امام بیہقی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب صاحبزادہ ابراہیم فوت ہوا تو نبی علیہ الصلوٰہ والسلام نے فرمایا کہ جنت میں اس کے لئے دایہ مقرر ہے جو اس کی رضاعت کی تکمیل کرے گی۔اگر وہ زندہ رہتا تو ضرور نبی ہو جاتا۔“ تاریخ ابن عساکر جلد ۱ صفحه ۲۹۵) ران دوسری روایات سے ابن ماجہ کی روایت زیر بحث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کی زبر دست تائید ہوتی ہے۔اسی لئے حضرت ملا علی القاری تحریر فرماتے ہیں ”لَهُ طُرُق ثَلَاثُ يُقَوَّى بَعْضُهَا بِبَعْضٍ “ کہ یہ حدیث تین طریقوں سے مروی ہے جن کے باعث یہ حدیث نہ صرف صحیح قرار پاتی ہے بلکہ قومی قرار پاتی ہے۔(موضوعات کبیر صفحہ ۶۹) اس موقع پر ہم حضرت مولانا نانوتوی کا ایک اور زریں قول بھی پیش کرتے ہیں۔آپ حیات النبی کے سلسلہ میں بعض روایات کے ذکر پر تحریر فرماتے ہیں :- وو ان روایات میں بعض روایات کا باعتبارسند کے چنداں قومی نہ ہونا چنداں مضر نہیں۔چند ضعیف باہم مل کر اسی طرح قوی ہو جاتی ہیں جس طرح چند احادیل کر متواتر بن جاتے ہیں۔“ ( آب حیات صفحہ ۴۹) پس یہ امر بالبداہت ثابت ہے کہ حدیث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ایک صحیح حدیث نبوی ہے بلکہ اپنے متعد د طرق کے باعث قوی حدیث ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکم عدل کا ارشادحدیث زیر غور کے سلسلہ میں حسب ذیل ہے۔تحریر فرماتے ہیں :۔ابراہیم لخت جگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خوردسالی میں یعنی سولہویں مہینے میں فوت ہو گئے تھے اس کی صفائی استعداد کی تعریفیں اور اس کی صد یقانہ فطرت کی صفت و ثناء احادیث کے رُو سے ثابت ہے۔“ (اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء) ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امام نووی ایسے بعض بزرگوں نے حدیث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا (778)