تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 779 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 779

نَبِيًّا پر کلام کیا ہے مگر دراصل اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو اس حدیث کے سمجھنے میں دقت پیش آئی تھی۔علامہ شوکانی لکھتے ہیں :۔وَهُوَ عَجِيْبٌ مِنَ النَّوَوِي مَعَ وَدُوْدِهِ عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَكَأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ لَهُ تَأْوِيلُه۔“ ( الفوائد المجموعة صفحه ۱۴۴) کہ ایسی حدیث پر جو تین "صحابیوں سے مروی ہے ہے امام نووی کا اعتراض عجیب ہے۔بات یہ ہے کہ ان پر اس حدیث کا صحیح مفہوم واضح نہیں ہوا۔“ اس جگہ امام علی القاری کے الفاظ کتنے پیارے ہیں۔فرماتے ہیں :- وو وَإِذَا أَخْبَرَ الصَّادِقُ وَثَبَتَ عَنْهُ النَقُلُ الْمُوَافِقُ فَلَا كَلَامَ فِيهِ مِمَّا يُنَا فِيهِ۔“ ( موضوعات کبیر صفحہ ۶۸) کہ جب نئی صادق علیہ السّلام نے خبر دی ہے اور صحیح نقل سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے تو پھر اس کے مخالف اور منافی کلام کا کوئی مطلب نہیں ہے۔“ پس اہل تحقیق کے نزدیک لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا یقینی طور پر درست حدیث ہے اور اگر کسی نے اس کے معنی مجھنے میں غلطی کھائی ہے تو اس سے حدیث کی ثقاہت میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔حديث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا سے ہمارا استدلال ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ حدیث نبوی کو عاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ، ایک صحیح حدیث ہے۔تاریخی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ صاحبزادہ ابراہیم کی ولادت اور وفات آیت خاتم النبیین کے نازل ہونے کے قریباً پانچ برس بعد ہوئی تھی۔ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کے یہ معنی سمجھتے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا تو صاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر ہرگز یہ نہ فرماتے لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔کہ اگر یہ بچہ زندہ رہتا تو ضرور ہی ہوتا۔بلکہ اس کے برعکس یوں فرماتے کہ چونکہ میں خاتم النبیین ہوں اس لئے اگر ابراہیم زندہ بھی رہتے تب بھی نبی نہ (779)