تفہیماتِ ربانیّہ — Page 775
اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے آبُو بَكْرٍ أَفضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِی که ابوبکر اس امت کے افضل فرد ہیں سوائے اس کے کہ نبی ہو۔“ كنوز الحقائق صفحه ۴ جامع الصغیر للسیوطی مطبوعہ مصر صفحہ ۶ حاشیہ ) پھر واقعات یوں ہیں کہ شبہ ہجری میں آیت خاتم النبیین کا نزول ہوا۔شبہ ہجری میں حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کا صاحبزادہ ابراہیم تولد ہوا اور فوت ہو گیا۔اس کی وفات پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا لو عاش لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا - (ابن ماجہ کتاب الجنائز) کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔حضور کا یہ ارشاد آیت خاتم النبیین کے نزول کے بعد کا ہے اور در حقیقت یہ خاتم النبیین کی واضح تفسیر - پر ہے۔اس ارشاد نبوی سے واضح ہے کہ خاتم النبیین کا لفظ آپ کے نزدیک صدیق نبی ، یا امتی نبی بننے میں ہر گز روک نہیں۔ورنہ اس موقع پر یوں ارشاد فرماتے کہ اگر یہ زندہ بھی رہتا تب بھی نبی نہ بن سکتا کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔مگر حضور نے جوار شاد فرمایا اس سے عیاں ہے کہ حضور کا خاتم النبیین ہونا تو صاحبزادہ ابراہیم کے نبی بنے میں روک نہ تھا محض اس کا وفات پا جانا روک تھا۔جس سے ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے باوجود انتی نبیوں کا دروازہ گھلا ہے لے حديث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا على بحث ابن ماجہ کی یہ حدیث اپنے مضمون کے لحاظ سے نہایت واضح ہے اس لئے بعض غیر احمدی علماء اس کے راویوں وغیرہ پر جرح کرتے ہیں۔اس کے راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی کو ضعیف کہتے ہیں۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ اول تو جس طرح بعض آئمہ جرح و تعدیل نے راوی حدیث ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی کو ضعیف قرار دیا ہے اسی طرح بعض ناقدین آئمہ کے نزدیک وہ قابل تعریف اور ثقہ راوی ہے۔لکھا ہے :- قَالَ يَزِيد بن هارون مَا قَضَى عَلَى النَّاسِ رَجُلٌ أَعْدَلُ فِي الْقَضَاءِ مِنْهُ وَقَالَ ابن عدي لَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ وَهُوَ خَيْرٌ مِنْ آبِى حَيَّةَ (تہذیب التہذیب جلد اصفحه ۱۳۵ نیز الا کمال فی اسماء الرجال حاشیه صفحه ۲۰) ا احادیث پر مفصل بحث کیلئے ہماری کتاب "القول المبین فی تفسیر خاتم النبیین ملاحظہ فرمائیں۔(مؤلف) (775)