تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 762 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 762

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے حضرت ابراہیم کی نسل کے لئے اسی امامت کا وعدہ فرمایا ہے جو حضرت ابراہیم کو عطا ہوئی تھی۔ظاہر ہے کہ اس جگہ امامت سے مراد نبوت ہی ہے۔لغت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور قرآن مجید میں فرمایا ہے وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ (عنکبوت: ۲۷) کہ ہم نے نسلِ ابراہیم میں نبوت کو جاری کیا۔“ اس آیت کی رُو سے جب تک نسل ابراہیم روئے زمین پر آباد ہے اور وہ ساری کی ساری ظالمین کے گروہ میں شامل نہیں ہو جاتی ان میں سلسلہ انبیاء ورسل جاری رہنا ضروری ہے۔اگر مسلمان غور کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے درود شریف میں كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ اور كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى الِ اِبْرَاهِيمَ کے الفاظ خاص طور پر کیوں مقرر فرمائے ہیں ان کی کیا حکمت ہے؟ تو وہ فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ اب چونکہ جملہ ابراہیمی وعدوں اور برکات کی وارث اُمت محمدیہ ہی ہے اور ان سے باہر کے گروہ ظالمین میں شامل ہو گئے ہیں اس لئے اب یہ نعمت اور یہ امامت ابراہیمی صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کے لئے مخصوص ہے، باقی لوگ اس نعمت کے پانے سے محروم ہیں مگر حضرت خاتم النبیین کے پیر و امامت ابراہیمی کے انعام کو پاتے رہیں گے۔(۴) يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيَّا إِلَى اللهِ بِاِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيراه وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللَّهِ فَضْلًا كَبِيران (احزاب : ۴۶ تا ۴۸) ترجمہ۔اے نبی ! ہم نے تجھے شاہد بنا کر بھیجا ہے، تو مبشر اور نذیر ہے اور اللہ تعالٰی کے اذن سے اس کی طرف بلانے والا ہے اور تجھے روشن کرنے والا چراغ بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔پس تو مومنوں کو بشارت دے کہ اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف فضل کبیر مقرر ہے۔“ خاتم النبیین کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے مقام کی وضاحت کرتے ہوئے آپ کو سراج منیرا ٹھہرایا ہے۔آپ ایسے روشن چراغ ہیں جس سے تمام آفاق میں نور پھیلے گا اور آپ اپنے امتیوں کو منور کریں گے۔(762)