تفہیماتِ ربانیّہ — Page 763
لفظ سراجا منیرا کے متعلق امام محمد بن عبد الباقی الزرقانی لکھتے ہیں:۔" قَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرِ بْنِ الْعَرَبِي قَالَ عُلَمَاؤُنَا سُمِّيَ سِرَاجًا لِأَنَّ السّرَاجَ الْوَاحِدَ يُؤْخَذُ مِنْهُ السُّرُجُ الْكَثِيرَةُ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ ضَوْيْهِ شَيْء۔“ ترجمہ - کہ قاضی ابوبکر بن العربی کہتے ہیں کہ ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سراج ( چراغ ) اس لئے قرار دیا گیا کہ ایک چراغ سے صدہا دوسرے چراغ روشن کئے جاسکتے ہیں مگر اصل چراغ کی روشنی میں اس سے کوئی کمی نہیں آتی۔“ ( زرقانی شرح مواہب لدنیہ جلد ۳ صفحه ۱۷۱) عام لوگ تو لفظ خاتم النبیین کو افضال ربانیہ کے انقطاع کے لئے بطور دلیل ذکر کرتے ہیں مگر اللہ تعالٰی اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سر اجا منيرا قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللهِ فَضْلًا كَبِيران (احزاب : ۴۸) کہ آپ اپنے امتی مومنوں کو بشارت دے دیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل کبیر ( بڑا فضل ) مقرر ہے۔(۵) امت محمدیہ کے لئے جو فضل الہی مقرر ہے اس کی تشریح خود اللہ تعالی نے فرما دی، فرمایا :- وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًاه ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللهِ عَلِيمان (النساء : ۱۹ - ۷۰ ) ترجمہ۔جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے یعنی ان کے ہم پایہ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے پہلے انعام فرمایا ہے یعنی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ہم درجہ ہوں گے۔یہ لوگ بہترین رفیق ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔“ اس آیت پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں امت محمدیہ کے درجات و مراتب کا (763)