تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 759 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 759

ما حصل اس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براه راست مقام نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتب اور مستفاض ہو۔یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمد یہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو (ریویو بر مباحثہ بٹالوی وچکڑالوی صفحه ۶-۷) ہمارے نزدیک یہ مودودی صاحب کی کوتاہ فہمی ہے کہ وہ سورہ احزاب کے خاتم النبیین والے رکوع کو صرف حضرت زینب کے نکاح پر کئے گئے اعتراضات کے جوابات تک محدود سمجھتے ہیں حالانکہ ان آیات میں دیگر معارف و حقائق کا بھی ایک بحر ذخار موجود ہے۔مودودی صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی صرف آخری نبی لینے اس لئے لازمی ہیں کیونکہ اسے متینی کی رسم کے ابطال کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔گویا یوں کہا گیا ہے کہ چونکہ آپ کے بعد اور کوئی نبی آنے والا نہ تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لازم تھا کہ اپنے اعلان کے علاوہ اپنے عمل سے یعنی حضرت زینب سے شادی کر کے بھی اس رسم کو باطل کریں اور لوگوں کے دلوں سے کراہت کے ہر تصور کا قلع قمع کر دیں، میں نہایت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ اس تعبیر و تفسیر کو من و عن مان لینے سے بھی اتنا ہی ثابت ہوگا کہ آپ آخری صاحب شریعت نبی ہیں کیونکہ نئے احکام جاری کرنا صرف صاحب شریعت نبی کا کام ہے امتی نبی کا کام نہیں۔پس خاتم النبیین کے معنی مودودی صاحب کے اختراعی سیاق و سباق کے رُو سے یہی ہوں گے کہ آپ کے بعد کوئی شریعت لانے والا نبی آنے والا نہ تھا اس سے امتی نبی کی نفی لازم نہیں آتی۔خاتم النبیین کا یہ مفہوم ، یعنی شارع نبیوں میں سے آخری نبی ، اگر چہ لفظ خاتم النبیین کے جامع معنوں پر حاوی ہونے کے لحاظ سے نا تمام ہے مگر ہمیں یہ بھی مسلم ہے کیونکہ اُمت کے علماء محققین کا ایک عظیم گروہ ان معنوں کی بھی تائید کرتا آیا ہے۔جماعت احمدیہ کا اعتقاد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع نبی ہیں آپ کی شریعت ہمیشہ قائم رہے گی اور آپ کے بعد کوئی شارع یا مستقل نبی نہ آسکتا ہے، نہ پیدا ہو سکتا ہے۔صرف ایسے نبی اُمتِ محمدیہ میں سے آسکتے ہیں جنہوں نے آنحضرت (759)