تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 760 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 760

صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔آیات قرآنیہ کے رُو سے خاتم النبیین کی تفسیر قرآن مجید سے صاف طور پر ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی آپ کی اُمت میں سے اصلاح خلائق کے لئے آپ کے امتی نبی آتے رہیں گے۔آیات ذیل پر غور فرمایا جائے :- (1) اللہ تعالیٰ اپنی سنت مستمرہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :۔اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلبِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بصِيره (الحج : ۷۵) کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی رسول منتخب کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔کیونکہ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“ اس آیت میں لفظ يصطفی مضارع ہے جو استمراری طور پر حال اور مستقبل کے لئے مستعمل ہو ا ہے جیسے ایک شاعر کہتا ہے a او كُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظَ قَبيْلَةُ بَعَثُوا إِلَيَّ عَرِيفَهُمْ يَتَوَسَّمُ پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی سنت مذکور ہے کہ وہ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب فرما تا رہتا ہے۔دوسری جگہ فرماتا ہے وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا۔کہ خدا کی سنت میں تبدیلی نہیں ہے۔فرشتوں کا بھیجا جانا آج بھی سب مسلمانوں کو مسلم ہے مگر تعجب ہے کہ وہ انسانوں میں سے کسی کے رسول بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہیں۔(۲) يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُضُونَ عَلَيْكُمْ أَيْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (اعراف: ۳۵) کہ اے آدمزاد و! جب بھی تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں اور تم پر میری آیات پڑھیں تو یاد رکھو کہ جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اصلاح (760)