تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 741 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 741

محدود الوقت انبیاء کے طریق کو بند فرما دیا اور اس عظیم الشان پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث فرمایا جو تمام کمالات کا جامع او رسب خوبیوں کا مجموعہ تھا، تمام پھولوں کا گلدستہ تھا۔اسے سب قوموں ، سب نسلوں اور سب زمانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا اور اسے فرمایا :- قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ الَيْكُمْ جَمِيعَاط که تو اعلان کر دے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض رسول نہ تھے آپ خاتم النبیین بھی تھے۔نبوت کے انتہائی کمالات کے حامل تھے اس لئے آپ کی بعثت کے ساتھ براہ راست اور مستقل نبیوں کی آمد کا سلسلہ کلیہ بند ہو گیا۔اب سارے روئے زمین پر کوئی ایسا نبی یا رسول نہیں آسکتا جس نے حضرت خاتم النبیین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضان حاصل نہ کیا ہو۔نبی کیا اب کوئی شخص ولی اور مقرب بارگاہ ایز دی بلکہ مومن بھی نہیں ہوسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع نہ ہو۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے جملہ سابق نبیوں کا سلسلہ اور ان کے فیضان کے انقطاع کا اعلان کر دیا گیا۔اب سوال یہ باقی رہ گیا ہے کہ آیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان جاری ہے یا وہ بھی منقطع ہو چکا ہے؟ عام غیر احمدی علماء کہتے ہیں کہ فیضانِ محمد سی بھی بند ہے اور اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بھی آسمانی برکات اور روحانی نعمتوں سے حصہ نہیں پاسکتے مگر جماعت احمدیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض جاری ہے اور آپ کے پیروؤں کے لئے تمام نعمتوں کے دروازے کھلے ہیں۔امتی نبوت کیا ہے؟ وہ فیضانِ محمدی کا اعلیٰ ترین پر تو ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک اب نہ کوئی مستقل نبی آسکتا ہے، نہ کوئی براہ راست نبوت کو پاسکتا ہے اور نہ ہی کسی تشریعی نبی کا آنا ممکن ہے۔اب تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی نبوت جاری ہے ، آپ کا ہی کلمہ ہے، اور آپ کی ہی شریعت قائم و دائم ہے ہاں بطور ظل و بروز آپ کی پیروی سے فنافی الرسول کے رنگ (741)