تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 726 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 726

توفی کے معنی قرآن کریم میں لفظ توفی بکثرت وفات کے معنوں میں وارد ہوا ہے یہاں تک کہ اس لفظ کے یہی معنی عام طور پر مستعمل ہونے لگ گئے اور لفظ توفی سے موت کے معنی متبادر طور پر سمجھے جانے لگے۔اور جب تک لفظ توفی کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ موجود نہ ہو جو اُ سے اس متبادر معنی سے دوسرے معنی کی طرف پھیر دے یہ لفظ موت کے معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال ہی نہیں ہوتا۔آیات قُلْ يَتَوَفَّىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكُلَ بِكُمْ (السجده: ١١) إِنَّ الَّذِينَ تَوَفُهُمُ الْمَلَبِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ (النساء: ۹۷) " وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمَلبِكَةُ “ (الانفال : ٥٠) تَوَفَّتُهُ رُسُلُنَا - وَمِنْكُمْ مِّنْ يَتَوَقُى - حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ “ پیش ہیں۔آیت میں لفظ تو قیتنی کا حق ہے کہ اس سے وہی متبادر معنی مراد لئے جائیں جسے سب لوگ سمجھتے ہیں اور جسے اس لفظ اور اس کے سیاق سے سب عربی بولنے والے جانتے ہیں یعنی معروف موت۔اندریں صورت جب تک اس آیت کے ساتھ کوئی اور چیز شامل کر کے مسیح کا اپنی قوم کے ساتھ اور انجام متعین نہ کیا جائے۔اس آیت کے رُو سے یہ کہنے کی ہر گز گنجائش نہیں کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔پھر ان لوگوں کے خیال کی وجہ سے جو حضرت مسیح کو ہنوز آسمان پر زندہ گمان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں آسمان سے اُتریں گے اس بات کی بھی قطعاً گنجائش نہیں ہے کہ آیت میں وفات سے مراد مسیح کے آسمان سے اترنے کے بعد کی وفات ہے۔کیونکہ آیت (فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي) جو صریح طور پر ان کی اپنی قوم سے تعلق کی حد بندی کر رہی ہے ان لوگوں پر شامل نہیں ہے جو (726)