تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 712 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 712

تو وہ اس کی ایک ہی نظیر دکھلاوے جہاں ہلا قرینہ صارفہ تو ئی قبض روح کے معنوں کے بغیر کسی اور معنی یعنی جسم سمیت اٹھانے کے معنوں میں استعمال ہوا ہو۔پس اے بھائیو ! حضرت عیسی کو فوت ہونے دو، تا اسلام زندہ ہو اور عیسائیت مٹے۔وفات مسیح اور قرآن مجید کا ناطق فیصلہ اللہ تعالٰی کو خوب معلوم تھا کہ فیج اعوج میں بعض لوگ حضرت مسیح کی شان میں بہت غلو کریں گے حتی کہ مسلمان کہلانے والے بھی سید الرسل کی وفات کا اقرار تو گھلے بندوں کریں گے لیکن حضرت مسیح کی موت کے قائل کو گردن زدنی قرار دیں گے۔اس لئے اس نے قرآن پاک میں جس وضاحت سے حضرت مسیح کی موت کا اعلان کیا ہے، ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ اور کسی نبی کی وفات کا ذکر اس رنگ میں نہیں فرمایا۔حیات مسیح کے قائلین کا اعتقاد ہے کہ حضرت مسیح زندہ بجسدہ العصری آسمان پر تشریف رکھتے ہیں اور وہی کسی نامعلوم وقت پر اپنے عہدہ رَسُولًا اِلی بنی اسراءیل کے خلاف امت محمدیہ میں نزول فرما ہوں گے۔اس خیال کی بنیاد کہاں تک قرآن مجید پر ہے؟ اس کے لئے ہم چینج دیتے ہیں کہ کوئی شخص قرآن مجید سے حضرت مسیح کے لئے زنده بجسده العصری یا کم از کم آسمان کا لفظ ہی دکھلا دے۔لیکن ھی اس خیال است و محال است و جنوں حضرت مسیح جملہ انبیاء کی طرح اس دار فانی سے چل بسے اور قرآن پاک ان کی وفات پر شاہد ہے۔حضرت مسیح کی تین حیثیتیں ہیں۔(۱) انسانوں میں سے ایک انسان (۲) نبیوں میں سے ایک نبی (۳) دنیا کے مصنوعی خداؤں میں سے ایک خدا۔قرآن کریم نے ہر حیثیت سے آپ کی موت کا اعلان کر دیا ہے۔پہلی حیثیت اور وفات مسیح (1) اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے قانون بیان فرمایا ہے۔قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (اعراف رکوع ۲) کہ تم کرہ ارضی میں زندہ رہو گے، اسی میں مرد گے، اسی سے پھر اُٹھائے جاؤ گے۔یعنی ہر حال زندگی ، موت اور حشر میں تم اسی خا کی گرہ میں رہو گے۔دوسری جگہ فرمایا أَلَمْ تَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاء وَأَمْوَاتًا ( المرسلات رکوع ۲) کیا ہم نے زمین (712)