تفہیماتِ ربانیّہ — Page 713
زندوں اور مردوں کے سمیٹنے کے لئے کافی نہیں بنائی ؟ (۲) تمام آدم زادوں کے لئے فرمایا - وَمِنْكُمْ مَّنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا (النحل رکوع ۹) اللهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةٌ، يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ (الروم رکوع ۶) کہ بعض تم میں سے جلد فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض کو ارذل العمر تک پہنچایا جاتا ہے۔انجام کار ان کا علم جہل سے بدل جاتا ہے۔اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا اور پھر اس ضعف کے بعد قوت دی۔اور پھر قوت کے بعد بھی ضعف اور بڑھا پا اس نے مقرر کیا ہے۔جیسا چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علیم و قدیر ہے۔" گو یا بتلایا کہ انسانی جسم کبھی بھی گردشِ ایام سے محفوظ ومصئون نہیں رہ سکتا۔وہ ہمیشہ تغیر پذیر رہتا ہے۔اب ان دونوں قانونوں کے رُو سے حضرت مسیح کیونکر آسمان پر جاسکتے ہیں؟ اور کیونکر ایک ہی حالت پر زندہ رہ سکتے ہیں؟ اگر وہ زندہ ہیں تو کیا وہ ابھی تک پیر فرتوت نہ ہو گئے ہوں گے؟ اگر کہا جائے کہ ان پر کوئی تغیر نہیں ہوتا بلکہ الان كما تحان کی شان اُنہیں حاصل ہے تو بتلایا جائے کہ خدا میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ اور یہ شان صرف ان کو ہی کیوں دی گئی ؟ دوسری حیثیت اور وفات مسیح جملہ انبیاء کے متعلق فرمایا وَمَا جَعَلَهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خلدِین ( انبیاء رکوع ۱) کہ ہم نے ان کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں نیز وہ بہت لمبے عرصہ تک زندہ رہنے والے نہ تھے۔دوسری طرف حضرت مسیح اور حضرت مریم کے متعلق فرمایا۔گانا تا كلن الطعام (مائدہ رکوع ۱۰ ) کہ وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے یعنی اب نہیں کھاتے۔بات صاف ہے کہ اگر مسیح زندہ ہوتے تو اُن کو کھانا کھانا ضروری تھا۔مگر چونکہ اب (713)