تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 702 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 702

ہیں۔لکھنؤ کے مولوی علی محمد صاحب ، مولوی عبد الحی صاحب، مولوی فضل اللہ صاحب، مولوی محمد نعیم صاحب، مولوی رحمت اللہ صاحب ، مولوی قدرت اللہ صاحب اور مولوی قطب الدین صاحب دہلوی۔پھر مکہ معظمہ سے ہندوستان کے دار السلام ہونے کے متعلق حنفیوں، شافعیوں اور مالکیوں کے مفتیوں سے فتاویٰ منگوائے گئے اس کے بعد اے ۱۸ عیسوی میں منشی امیر علی صاحب کا ایک رسالہ جہاد کلکتہ میں شائع ہوا اس میں شیعہ قانون کے مطابق یہ ثابت کیا گیا کہ ملکہ معظمہ کے خلاف جہاد کرنا جائز نہیں۔انگریز اور بانی سلسلہ احمد پیله ۲۹) (۹) شیعہ مجتہد علی الحائری کہتے ہیں :- ”ہم کو ایسی سلطنت کے زیر سایہ ہونے کا فخر حاصل ہے کہ جس کی حکومت میں انصاف پسندی اور مذہبی آزادی قانون قرار پاچکی ہے جس کی نظیر اور مثال دنیا کی اور سلطنت میں نہیں مل سکتی۔۔۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہر شیعہ کو اس احسان کے عوض میں صمیم قلب سے برٹش گورنمنٹ کا احسان مند اور شکر گزار رہنا چاہئے۔“ موعظه تحریف قرآن بابت اپریل ۱۹۲۳ صفحه ۶۷-۶۸) (۱۰) حضرت سید احمد صاحب بریلوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ :- ”ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی اور احیاء سنن سید المرسلین ہے۔سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصول مذہب طرفین کا خون بلا سبب گراویں۔“ (سوانح احمدی مولانا محمد جعفر تھانیسری مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور صفحہ ۷۲) حضرت مسیح موعود کی طرف سے گورنمنٹ کا شکریہ ان حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزی حکومت کا دوباتوں کے لئے شکر یہ ادا فرمایا۔اول یہ کہ انگریز سکھوں کی طرح ہمیں واجب القتل نہیں سمجھتے“ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفر ۱۳۳) دو ھر یہ کہ انگریزوں نے مذہبی آزادی دے رکھی ہے۔حضور فر ماتے ہیں :۔گورنمنٹ نے ہر ایک قوم کو اپنے مذہب کی اشاعت کی آزادی دے رکھی ہے ے اس موضوع پر یہ رسالہ قابل دید ہے۔(مؤلف) (702)