تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 693 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 693

بھی تمہاری طرح آدمی ہوں۔مجھے خطا اور صواب کا امکان ہے۔“ اہلحدیث ۶ جون ۱۹۳۰ ء صفحه ۵-۶) الجواب ۳ - حوالہ کی غلطی کو جھوٹ نہیں کہتے۔ورنہ آئے مندرجہ ذیل بزرگوں پر بھی کذب بیانی کا فتویٰ دیجئے :- علامہ سعد الدین تفتازانی۔ملا خسرو۔ملا عبد الکریم تینوں نے لکھا ہے کہ حديث يَكْثُرُ لَكُمُ الْأَحَادِيثُ بَعْدِدی “ کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں درج وو کیا ہے۔( تلویح شرح توضیح جلد ۱ صفحہ ۲۶۱) کیا آپ ان بزرگوں کو کاذب قرار دیں گے کیونکہ یہ حدیث بخاری میں تو نہیں ہے؟ پھر امام ابن الربیع نے حدیث " خَيْرُ السُّوْدَانِ ثَلَاثَةٌ لُقْمَانُ وَبِلَالٌ وَمَهْجَعُ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “ کو ”رَوَاهُ البَحَارِئ في صَحِيحِہ“ فرمایا ہے۔( موضوعات کبیر صفحہ (۴۴) حالانکہ یہ بخاری میں نہیں ہے بلکہ حاکم کی روایت ہے۔اب کیا آپ امام ابن الربیع کو بھی کاذب قرار دیں گے یا اس بیان کو سہو پر محمول کریں گے؟ مَا هُوَ جَوَابُكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا - (19) کوئی نبی غیر حکومت کے ماتحت نہیں ہوتا ؟ سوال۔حضرت مرزا صاحب انگریزی حکومت کے ماتحت مبعوث ہوئے۔حالانکہ کوئی نبی غیر حکومت کے ماتحت نہیں ہوتا ؟ الجواب ،ا - تاریخ اور بائیبل سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح ناصری رومی گورنمنٹ کے ماتحت تھے۔پس ضرور تھا کہ مسیح محمدمی کو پہلے مسیح سے بوجہ مماثلت انگریزی گورنمنٹ کے ماتحت مبعوث کیا جاتا۔یہودی علماء نے از راہ شرارت حضرت مسیح سے پوچھا تھا کہ ”ہمیں قیصر کو خراج دیناروا ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا :- جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“ (لوقا ۲۰/۲۵) حضرت مسیح کے متعلق مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ : -: گر ابتداء ہی میں حکومت سے مقابلہ شروع ہو جاتا تو اصل اصلاحی کام (693)