تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 692 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 692

كَذَا ذَكَرَهُ السُيُوطِيُّ وَفِي الزَوَائِدِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ ثقاتُ وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِى الْمُسْتَدْرَك وَقَالَ صَحِيعٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ۔“ ترجمہ۔اس کو سیوطی نے بھی ذکر کیا ہے۔اس کی سند صحیح اور راوی ثقہ ہیں۔امام حاکم نے اس کو مستدرک میں بیان کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق بھی صحیح ہے۔( حاشیہ ابن ماجه مطبوعه مصرجلد ۲ صفحه ۲۶۹) پس یہ حدیث نہایت معتبر ہے اس لئے حضرت کے بیان کو کذب قرار دینا غلط ہے۔الجواب ۲ - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر تحریر فرمایا ہے :- (الف) " وَالْعَجَبُ الْأَخِرُ أَنَّهُمْ يَنْتَظِرُوْنَ الْمَهْدِى مَعَ أَنَّهُمْ يَقْرَؤُنَ فِي صَحِيحِ ابْنِ مَاجَةَ وَالْمُسْتَدْرَكِ حَدِيثَ لَا مَهْدِى إِلَّا عِيسَى وَيَعْلَمُونَ آنَّ الصَّحِيحَيْنِ قَدْ تَرَكَا ذِكرَة لِضُعْفِ أَحَادِيثَ سَمِعْتَ فِي أَمْرِهِ “ ( حمامة البشری صفحه ۴۴) یعنی امام بخاری اور امام مسلم نے مہدی کی بابت کوئی حدیث اپنی صحیح میں ذکر ہی نہیں کی۔(ب) میں کہتا ہوں کہ مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں۔اسی وجہ سے امامین حدیث نے ان کو نہیں لیا۔(ازالہ اوہام صفحه ۲۳۵ طبع سوم) ان دونوں عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک مہدی کی کوئی روایت بخاری میں موجود نہیں۔پس شہادۃ القرآن کی عبارت میں بخاری کے حوالہ کا ذکر سبقت قلم ہے، اسے کذب قرارد ینا غلط ہے۔پھول چوک نبیوں سے بھی ہو جاتی ہے۔اخبار اہلحدیث میں لکھا ہے :- فر ما یا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اس کے اور کچھ نہیں میں بشر ہوں مثل تمہارے۔میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو۔فرمایا کہ میں آدمی ہوں۔بعض دفعہ غسل جنب سے پھول جاتا ہوں۔میں (692)