تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 678 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 678

(۲) اسی طرح ایک نئی سواری جس کی طرف قرآن شریف اور حدیثوں میں اشارہ تھا وہ بھی ظہور میں آگئی۔یعنی سواری کریں جو اونٹوں کے قائم مقام ہوگئی۔(ضمیمہ براہین پنجم صفحه ۱۸۳) ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ مطلق اونٹوں کی بیکاری کی پیش گوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مطلق طور پر ہی اس کا پورا ہونا مرا دلیا ہے۔لهذا مولوی صاحب کا مخصوص ملک کے متعلق استفسار در حقیقت پیشگوئی کی حقیقت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارات سے ناواقفیت کی بناء پر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عام طور پر غیر احمدیوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا کیا گیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت اونٹ کلیۂ بیکار اور رائگاں ہو جائیں گے۔حالانکہ یہ مفہوم صریح طور پر آیات قرآنیہ خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً اور رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً کے برخلاف ہے۔اونٹ خدا کی ایک مخلوق ہے اور بہر حال ایک کارآمد چیز ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ليترَكَنَ القِلاص فرمایا تو اس کا مطلب بکلی متروک ہونا نہیں تھا۔چنانچہ اس لئے حضور علیہ السلام نے اس کے ساتھ ہی فَلا يُسعى عَلَيْهَا فرما کر اس ترک کی تشریح فرما دی کہ تیز رفتاری میں متروک ہو گا۔چنانچہ اب دیکھ لو کہ تیز رفتاری کے لئے اونٹ استعمال نہیں ہوتے بلکہ جہاں تیز رفتاری منظور ہوتی ہے وہاں پر سائیکل ، موٹر سائیکل، موٹر کاریں، ریل اور ہوائی جہازوں وغیرہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔اونٹوں کا استعمال جہاں بھی ہے قریباً بار برداری کے لئے رہ گیا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی نمایاں طور پر پوری ہوگئی۔مکہ اور مدینہ میں بھی بکثرت موٹریں اور بسیں جاری ہیں۔عام طور پر حاجی موٹروں پر سفر کرتے ہیں۔راجپوتانہ ، بلوچستان، مارواڑ اور سندھ وغیرہ میں بھی تیز رفتاری کے لئے ریل یا موٹر ہی مستعمل ہوتی ہے۔بلکہ ان علاقوں میں اکثر بار برداری بھی ریلوں کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ہاں اونٹوں کی نسل کا موجود رہنا اور ان سے بھی بار برداری کا کام لینا نہ پیشگوئی کے خلاف ہے اور نہ ہی اس بناء پر اعتراض ہو سکتا ہے۔(678)