تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 679 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 679

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جائے ظہور ہندوستان ہے اس لئے اس پیشگوئی کا ظہور بھی پہلے وہاں سے دیکھنا چاہئے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ دنیا کی مسافت کا بیشتر اور اکثر حصہ اونٹوں کے بغیر طے ہوتا ہے اور تیز رفتاری میں تو اونٹ بالکل متروک ہو چکے ہیں حتی کہ اب مشہور بادية الشام بھی موٹروں کے ذریعہ ہی عبور کیا جاتا ہے۔عراق ، شام ، فلسطین اور دیگر بلاد عربیہ میں بھی ریل اور موٹر کار کا رواج غالب ہو چکا ہے۔چنانچہ ڈاکٹر خواجہ عبد الرشید صاحب اپنے سفر نامہ پاکستانی مسافر یورپ میں کے زیر عنوان لکھتے ہیں :- وو 66 پھر اسپر بھی غور فرمائے وَإِذَ الْعِشَارُ مُحظِلت۔یہ قیمتی اور گا بھن اوٹنی یعنی قیمتی اونٹ جو بہت کارآمد ہے معطل ہو جائے گی، ہوتی جارہی ہے کہ نہیں۔اب کہاں وہ حاجیوں کے قافلے جو قطار اندر قطار جدہ سے چل کر کن کٹھن منزلوں کے بعد مکہ اور مدینہ پہنچتے تھے۔اب تو ریگستان عرب میں قیمتی سے قیمتی موٹر چلتا ہے۔عنقریب آپ دیکھ لیں گے کہ اونٹ کی افادیت ختم ہو جائے گی یہ جانور بھی ریگستانوں میں نا پید ہو جائے گا۔یہ حالات ہیں جو قیامت کے قریب ظاہر ہو رہے ہیں۔“ ( صدق جدید لکھنو ۱۴ ستمبر ۱۹۲۶۲ء) کیا اب بھی کوئی خدا ترس شخص کہہ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ نہیں آیا اور اونٹوں سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔(۱۳) مکہ مدینے کے درمیان ریل اور مولوی صاحب کی خیانت اگر چہ مولوی صاحب نے اپنی کتاب تعلیمات میں وعدہ کیا تھا کہ ”ہم ان (حضرت مسیح موعود کے حوالہ جات کو۔ناقل ) کو بلا تاویل و تحریف اصلی صورت میں پیش کرتے ہیں۔“ (صفحہ ۱۶) مگر افسوس کہ انہوں نے خاص وعدہ کے باوجود اہلحدیثوں کے خصوصی عیب سے اجتناب اختیار نہیں کیا۔چنانچہ جہاں مولوی صاحب نے اعجاز احمدی کی عبارت درج کی ہے وہاں لکھتے ہیں :- ” یہاں تک کہ عرب و عجم کے ایڈیٹر ان اخبار اور جرائد والے اپنے پر چوں میں بول اُٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہوئی ہے یہ بھی اس پیشگوئی کا ظہور ہے۔“ (تعلیمات صفحہ ۱۹) حالانکہ اعجاز احمدی کی عبارت میں الفاظ ریل تیار ہو رہی ہے ہیں۔(679)