تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 676 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 676

ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل انہی کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن و تشنیع کا موقعہ دیتا ہے۔اور جب وہ ہنسی اور ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔“ ( الوصیت صفحه ۵) (۴) یا درکھو کہ کوئی آسمان سے نہ اُترے گا۔ہمارے سب مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی اُن میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہ دیکھے گا۔اور پھر اُن کی اولا د جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور اُن میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اُترتا نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولا د مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا اُن کے دلوں میں سخت گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اُترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہ ہوگی کہ عیسی کا انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہوکر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑ دیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخمریزی کرنے کے لئے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ خم بویا گیا اور وہ بڑھے گا اور چھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے “ ( تذکرۃ الشہادتین صفحه ۶۵) ان عبارتوں سے واضح ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود کے زمانہ میں جس وحدت قومی کا ذکر فرمایا ہے اور غلبہ اسلام کے ظہور کا جو وقت بتایا ہے اس کیلئے حضور نے خود ہی تین صدیاں مقرر کی ہیں لہذا اس سے قبل اس کی تکذیب (676)