تفہیماتِ ربانیّہ — Page 650
بدر ۱۳ جون ۱۹۰۷ء کا جواب حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا ذاتی ہے مولوی ثناء اللہ صاحب اخبار بدر کے 190 ء سے بھی استدلال کیا کرتے ہیں۔مگر وہ جواب (درباره حقیقۃ الوحی ) ایڈیٹر اخبار حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا ہے، حضرت اقدس کا جواب ہے۔۱۹۳۰ء میں حضرت مفتی صاحب نے ذیل کا خط مجھے لکھا تھا جو تفہیمات ربانیہ کے پہلے ایڈیشن میں اس وقت شائع ہو گیا تھا۔وَهُوَ ھذا۔بسم الله الرحمن الرحيم محمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم مکرم بندہ مولوی اللہ د تا صاحب جالندھری مولوی فاضل السلام عليكم ورحمة الله و بركاته آپ کے سوال کے جواب میں اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اخبار بدر مورخہ ۱۳ ارجون ۱۹۰۷ ء صفحہ ۲ کالم نمبر اول میں جو نوٹ بعنوان ”نقل خط بنام مولوی ثناء اللہ صاحب شائع ہوا ہے۔یہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے مطالبہ حقیقۃ الوحی کا جواب ہے جو میں نے خود لکھا تھا۔اور یہ میرے ہی الفاظ ہیں۔کیونکہ حضرت اقدس نے اس کے متعلق کوئی ہدایت نہ دی تھی۔میں نے اپنی طرف سے جواب لکھ دیا تھا۔اس بیان کی اشاعت مناسب ہے۔تا کہ کوئی شخص اس نوٹ کو حضرت کی طرف منسوب کر کے مغالطہ نہ دے سکے۔والسلام - المرقوم ۱۰؍ دسمبر ۱۹۳۵ء۔خاکسار محمد صادق سابق ایڈیٹر اخبار بدر قادیان اس خط کا مضمون نہایت واضح ہے۔خود مولوی ثناء اللہ صاحب نے بھی لکھا ہے :۔کتاب حقیقۃ الوحی باوجود تحریری وعدے کے میرے پاس آج تک نہیں بھیجی۔رجسٹری خط کے ذریعہ یاد دہانی کی تو جواب صاف آیا۔جس پر آپ کے بے نور بدر کے ایڈیٹر نے کمال ایمانداری سے اپنا جواب تو شائع کر دیا مگر میرے خط کا ذکر تک نہ کیا۔“ ( مرقع قادیانی امر تسر نومبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۲۲) (650)