تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 617 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 617

طرف گھور کر دیکھنے لگا۔مگر میں غلط بیانی کس طرح کر سکتا تھا؟ اب مولوی صاحب نے ناراضگی سے اور تحقیر آمیز انداز میں پوچھا کہ ”تم میں سے کوئی مولوی سرورشاہ کو جانتا ہے۔میں نے قریب ہونے کے باعث فوراً کہہ دیا کہ وہ ہمارے اُستاد ہیں ہم سب اُن کو جانتے ہیں۔پھر پوچھا کہ تم میں سے کوئی مجھے بھی جانتا ہے۔میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں آپ کا خُوب ذکر فرمایا ہے ہم سب آپ کو جانتے ہیں۔کہنے لگے کہ نہیں میری مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا بھی ہے جسے میں بھی جانتا ہوں۔میں نے عرض کیا کہ یہ تو آپ خود ہی بتا سکتے ہیں ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ مولوی صاحب کہنے لگے کہ تم ذرا بیٹھو میں یہ خط لکھ رہا ہوں مجھے مولوی سرور شاہ صاحب کا ایک خط آیا ہے یہ اس کا جواب ہے۔لکھ کر تمہیں سناتا ہوں۔انہوں نے اپنا جواب مکمل کیا ، پھر اس کی نقل کی۔بعد ازاں ایک نقل مجھے دی اور دوسری ہمارے ساتھی مولوی ناصر الدین صاحب کو دی تا کہ مقابلہ کر لیا جائے۔اور فرمانے لگے کہ تم پڑھتے جاؤ میں تمہیں سمجھا تا جاؤں گا۔واقعہ یوں ہو ا تھا کہ استاذنا المکرم حضرت مولانا سید محمدسرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ اس سال افسر جلسه سالانہ تھے۔آپ نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو خط لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ :- مولوی صاحب ! آپ نے کہا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو اونچا کیا ہے اور میں ہی ان کو گراؤں گا۔آپ نے اس سلسلہ میں انتہائی کوشش کرلی ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر بھی اب دس گیارہ برس بیت چکے ہیں۔گویا آپ کو مخالفت میں پورا زور لگانے کا لمبا اور گھلا موقعہ مل گیا ہے۔اب ۲۶، ۲۸،۲۷ / دسمبر کو قادیان میں جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ ہے۔میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے قادیان تشریف لاکر آخری عمر میں یہ دیکھتے جائیں کہ جس مسیح موعود کو آپ گرانا چاہتے تھے ، آج اس کی کتنی قبولیت ہو چکی ہے؟ حضرت مولوی صاحب نے اپنے (617)