تفہیماتِ ربانیّہ — Page 616
۱۹۱۹ کی بات ہے کہ ہم طلبہ نے جن کی تعداد بارہ یا تیر تھی ، ایک دن صبح کی فراغت کے وقت حضرت مولوی صاحب سے اجازت لی اور ریلوے سٹیشن کے قریب والی اپنی قیام گاہ (سرائے ) سے شہر بٹالہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ملنے چلے گئے۔اُن کے گھر سے کچھ فاصلہ پر ہمیں مولوی صاحب موصوف کا ایک شاگرد جس نے اپنا نام نذیر احمد بتایا تھامل گیا۔وہ بھی طالب علم تھا۔اُسے ہم سے کچھ اُنس ہو گیا۔وہ ہمیں مولوی محمد حسین صاحب کے گھر لے گیا۔اُس نے ہم سے راستہ میں ہی کہہ دیا تھا کہ اگر تم لوگوں نے جاتے ہی بتا دیا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں تو مولوی صاحب فوراً ناراض ہو جا ئیں گے اور تمہیں گفتگو کا موقعہ نہیں مل سکے گا۔آج کل مولوی صاحب جلد ناراض ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ نہ بتانا کہ تم قادیان سے آئے ہو۔ہم نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے آبائی ضلع کا ذکر کر دے گا۔جب ہم مولوی صاحب کے کمرہ میں داخل ہوئے تو وہ لکھنے میں مصروف تھے۔چار پائی پر بیٹھے تھے ، ان کے سامنے بینچ پڑے تھے۔ہم ایک ایک کر کے اندر داخل ہوئے ، سلام کہتے۔مولوی صاحب دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے مصافحہ کرتے قلم اُن کے ہاتھ میں تھی۔سلام کے جواب کے ساتھ ہی ہر ایک سے پوچھتے کہ کہاں سے آئے ہو؟ ہر ایک طالبعلم طے شدہ سکیم کے مطابق بتلا دیتا کہ میں مثلاً گجرات کے ضلع کا رہنے والا ہوں میں فیروز پور کے ضلع کا ہوں۔اتنا کہہ کر وہ جھٹ آگے جا کر بیچ پر بیٹھ جاتا۔اپنے سب ساتھیوں میں غالباً عمر میں بھی میں سب سے چھوٹا تھا اور کمرہ میں داخل ہونے میں بھی سب سے پیچھے تھا۔میں یونہی داخل ہوا اور سلام اور مصافحہ کے بعد آگے بڑھ کر بیٹھنے لگا، تو آپ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا کہ میں ضلع جالندھر کا رہنے والا ہوں۔یہ کہا اور جھٹ بینچ پر بیٹھ گیا۔مجھے جو جگہ ملی ، وہ مولوی صاحب کے قریب تر تھی۔آپ نے مجھ سے دوسرا سوال کر دیا کہ کیا کام کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ پڑھتا ہوں۔انہوں نے تیسرا سوال پوچھا کہ کہاں پڑھتے ہو؟ میں نے کہا کہ قادیان میں پڑھتا ہوں۔میرا یہ جواب دینا تھا کہ مولوی صاحب کا رنگ بدل گیا اور ناراضگی کے آثار ان کے چہرہ پر نمایاں ہو گئے۔نذیر احمد جو ہمیں ساتھ لایا تھا میری (616)